سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : فضل أبي بكر الصديق رضي الله عنه
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 100
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَالْآخِرِينَ، إِلَّا النَّبِيِّينَ، وَالْمُرْسَلِينَ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر انبیاء و رسل کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں جنت کے ادھیڑ عمر لوگوں کے سردار ہوں گے“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 100]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما پہلے اور پچھلے معمر جنتیوں کے سردار ہیں، لیکن نبیوں اور رسولوں کے سوا۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11819، ومصباح الزجاجة: 37) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
100
| سيدا كهول أهل الجنة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 100 کے فوائد و مسائل
الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، سنن ابن ماجہ 100
سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت
❀ سیدنا ابوجحیفہ سوائی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ .»
”ابوبکر اور عمر بن خطاب نبیوں اور رسولوں کے علاوہ پہلے اور بعد والے تمام ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه: 100]
اس حدیث کو امام ابن حبان ؒ نے اپنی کتاب [صحيح ابن حبان: 4904] میں صحیح قرار دیا ہے۔
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت
❀ متواتر حدیث ہے:
«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ .»
”حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“ [سنن التّرمذي: 3781]
اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن غریب، امام ابنِ خزیمہ [صحيح ابن خزيمة: 1194] ، امام ابن حبان [صحيح ابن حبان: 7126، 6960] اور امام حاکم [المستدرك على الصحيحين: 3/381، 151] نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی نے موافقت کی ہے۔
اس حدیث کو حافظ سیوطی [الازهار: 103] نے متواتر قرار دیا ہے۔
امام حاکم ؒ کا تبصرہ
◈ امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:
«هٰذَا حَدِيثٌ قَدْ صَحَّ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ .»
”یہ حدیث کئی طرق سے صحیح ہے۔“ [المُستدرك على الصحيحين: 3/167]
❀ سیدنا ابوجحیفہ سوائی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ .»
”ابوبکر اور عمر بن خطاب نبیوں اور رسولوں کے علاوہ پہلے اور بعد والے تمام ادھیڑ عمر جنتیوں کے سردار ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه: 100]
اس حدیث کو امام ابن حبان ؒ نے اپنی کتاب [صحيح ابن حبان: 4904] میں صحیح قرار دیا ہے۔
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی فضیلت
❀ متواتر حدیث ہے:
«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ .»
”حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔“ [سنن التّرمذي: 3781]
اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن غریب، امام ابنِ خزیمہ [صحيح ابن خزيمة: 1194] ، امام ابن حبان [صحيح ابن حبان: 7126، 6960] اور امام حاکم [المستدرك على الصحيحين: 3/381، 151] نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی نے موافقت کی ہے۔
اس حدیث کو حافظ سیوطی [الازهار: 103] نے متواتر قرار دیا ہے۔
امام حاکم ؒ کا تبصرہ
◈ امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:
«هٰذَا حَدِيثٌ قَدْ صَحَّ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ .»
”یہ حدیث کئی طرق سے صحیح ہے۔“ [المُستدرك على الصحيحين: 3/167]
[فتاوی امن پوری، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث100
اردو حاشیہ:
نبی وہ ہے جس پر وحی اترے اور رسول اس سے خاص ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ رسول وہ ہے جو کتاب و شریعت جداگانہ رکھتا ہو اور کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہو اور نبی جو اس کے قدم بقدم ہو، مبلغ ہو۔ وحی دونوں پر آتی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، حدیث: 95 کے فوائد و مسائل۔
نبی وہ ہے جس پر وحی اترے اور رسول اس سے خاص ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ رسول وہ ہے جو کتاب و شریعت جداگانہ رکھتا ہو اور کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہو اور نبی جو اس کے قدم بقدم ہو، مبلغ ہو۔ وحی دونوں پر آتی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، حدیث: 95 کے فوائد و مسائل۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 100]
Sunan Ibn Majah Hadith 100 in Urdu
عون بن أبي جحيفة السوائي ← وهب بن وهب السوائي