🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب : من أكل الثوم فلا يقربن المسجد
باب: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ: الثُّومِ، فَلَا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا"، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ أَبِي يَزِيدُ فِيهِ الْكُرَّاثَ وَالْبَصَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: أَنَّهُ يَزِيدُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الثُّومِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس پودے یعنی لہسن کو کھائے، وہ ہماری مسجد میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائے۔ ابراہیم کہتے ہیں: میرے والد سعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں گندنا ( «کراث») ۱؎ اور پیاز کا اضافہ کرتے تھے اور اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1015]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یہ پودا، یعنی لہسن کھایا ہو تو وہ ہماری مسجد میں اس کی بو کے ساتھ ہمیں ایذا نہ پہنچائے۔ (امام زہری کے شاگرد) ابراہیم بن سعد نے فرمایا: میرے والد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گیندنا اور پیاز کے الفاظ کا اضافہ فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13111)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 17 (563)، مسند احمد (2/264، 266) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گندنا (کراث): ایک تیز بو والی سبزی جس کی بعض قسمیں پیاز اور لہسن کے مشابہ ہوتی ہیں، اسی قسم کی ایک سبزی کراث مصری و کراث شامی کہلاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حجة
👤←👥محمد بن عثمان القرشي، أبو مروان
Newمحمد بن عثمان القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1251
من أكل من هذه الشجرة فلا يقربن مسجدنا ولا يؤذينا بريح الثوم
سنن ابن ماجه
1015
من أكل من هذه الشجرة الثوم فلا يؤذينا بها في مسجدنا هذا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1015 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1015
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ابراہیم بن سعد رحمۃ اللہ علیہ کے والد سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
یعنی سعد بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث ر وایت کی ہے۔
لیکن اس میں صرف لہسن نہیں بلکہ لہسن پیاز اور گیندنا تینوں کا ذکر کیا ہے۔

(2)
اس حدیث میں صراحت ہے کہ مسجد میں آنے سے پہلے ان چیزوں کے کھانے سے منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس کی بو سے نمازیوں کی تکلیف ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت کی بنا پر جمعہ کی نماز کےلئے آنے والوں کو نہا کر صاف کپڑے پہن کر آنے کا حکم دیا تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1015]

Sunan Ibn Majah Hadith 1015 in Urdu