🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب : من أكل الثوم فلا يقربن المسجد
باب: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1014
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا، أَوْ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ،" إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ: هَذَا الثُّومُ، وَهَذَا الْبَصَلُ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ كَانَ آكِلَهَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهَا طَبْخًا".
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطیب کی حیثیت سے کھڑے ہوئے یا خطبہ دیا، تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: لوگو! تم دو درختوں کے پھل کھاتے ہو، اور میں انہیں خبیث ۱؎ اور گندہ سمجھتا ہوں، وہ پیاز اور لہسن ہیں، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس شخص کے منہ سے اس کی بو آتی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا، لہٰذا جو کوئی اسے کھانا ہی چاہے تو اس کو پکا کر اس کی بو زائل کر لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1014]
حضرت معدان بن ابو طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دینے کھڑے ہوئے، یا فرمایا کہ انہوں نے جمعہ کے دن خطبہ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! تم دو پودے کھاتے ہو، جنہیں میں برا ہی سمجھتا ہوں، یعنی یہ لہسن اور یہ پیاز، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیکھا کرتا تھا کہ اگر کسی (کے منہ) سے اس (لہسن یا پیاز) کی بو محسوس کی جاتی تو اسے ہاتھ سے پکڑ کر (مسجد سے باہر) بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، اس لئے جو شخص انہیں کھانا چاہے اسے چاہیے کہ پکا کر ان کی بو ختم کر لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 17 (567)، سنن النسائی/المساجد 17 (709)، (تحفة الأشراف: 10646)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/49) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ دونوں خبیث اس اعتبار سے ہیں کہ انہیں کچا کھا کر مسجد میں جانا منع ہے، البتہ پک جانے کے بعد ان کا حکم بدل جائے گا، اور ان کا کھانا جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥معدان بن أبي طلحة اليعمري
Newمعدان بن أبي طلحة اليعمري ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← معدان بن أبي طلحة اليعمري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة حجة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1014
يوجد ريحه منه فيؤخذ بيده حتى يخرج إلى البقيع فمن كان آكلها لا بد فليمتها طبخا
سنن ابن ماجه
3363
يوجد ريحه منه فيؤخذ بيده حتى يخرج به إلى البقيع فمن كان آكلهما لا بد فليمتهما طبخا
سنن النسائى الصغرى
709
أمر به فأخرج إلى البقيع فمن أكلهما فليمتهما طبخا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1014 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1014
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لہسن اور پیاز کا استعمال حرام نہیں ورنہ انھیں پکانے کا حکم نہ دیا جاتا۔

(2)
بد بودار چیز کھا پی کر مسجد میں آنا منع ہے۔

(3)
تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
کیونكہ تمباکو، حقہ اورسگریٹ وغیرہ کی بو لہسن اور پیاز کی بو سے زیادہ سخت اور زیادہ ناگوار ہوتی ہے۔

(4)
بعض روایات میں (کراث)
(گیندنا)
کا بھی ذکر ہے۔
یہ بھی پیاز سے مشابہ ایک پودا ہے۔
اس کے علاوہ بعض علماء نے مولی کو بھی مذکورہ بالا اشیاء کے حکم میں رکھا ہے کیونکہ اس میں بھی ایک حد تک ناگوار بو پائی جاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1014]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 709
کن لوگوں کو مسجد سے باہر نکالا جائے؟
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگو! تم ان دونوں پودوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث ہی سمجھتا ہوں ۱؎ یعنی اس پیاز اور لہسن سے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان میں سے کسی کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، تو اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان دونوں کو کھائے تو پکا کر ان کی بو کو مار دے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 709]
709 ۔ اردو حاشیہ: اگر کوئی شخص بو والی چیز کھا کر مسجد میں آ جائے تو اسے بطور سزا یا لوگوں اور فرشتوں کو تکلیف سے بچانے کے لیے مسجد سے نکالا جا سکتا ہے۔ یہ حدیث صرف مسجد کے بارے میں ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 709]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3363
لہسن، پیاز اور گندنا کھانے کا بیان۔
معدان بن أبی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: لوگو! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں: ایک لہسن، دوسرا پیاز، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا، تو جس کو لہسن، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3363]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب مسجد میں جانا ہوتوکچا پیاز یا لہسن نہیں کھانا چاہیے۔

(2)
اگر کھانا پڑے تو نماز سے اتنی دیر پہلے کھایا جائے کہ نماز کے وقت تک اس کی بو ختم ہوجائے یا کوئی ایسی چیز کھالی جائے جس سے پیاز کی بو ختم ہوجائے۔

(3)
اگر لہسن یا پیاز سالن میں ڈال کر پکا لیا جائے تو اس کی بو ختم ہو جاتی ہے۔
ایسا سالن کھا کر مسجد میں جانے میں کوئی حرج نہیں۔

(4)
جب ایک مسئلہ پہلے بیان کیا جا چکا ہو اس کے بعد اس کے متعلق غلطی کرنے والے کوسختی سے تنبیہ کی جا سکتی ہے۔

(5)
مسجد سے نکالنے کا مقصد یہ تھا کہ بو ختم ہونے پر مسجد میں آئے۔

(6)
سگریٹ کی بوپیاز کی بو سے بہت زیادہ ناگوار ہوتی ہے نیز یہ حرام بھی ہے لہٰذا ہر مسلمان کو اس سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہیے خواہ نماز کا وقت ہو یا دوسرا کوئی وقت۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3363]

Sunan Ibn Majah Hadith 1014 in Urdu