🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب : المصلي يسلم عليه كيف يرد
باب: نمازی دوران نماز سلام کا جواب کیسے دے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقِيلَ لَنَا: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1019]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نماز میں (ایک دوسرے کو) سلام کر لیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں فرمایا گیا: نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9525، ومصباح الزجاجة: 365)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 3 (1201)، 15 (1216)، المناقب 37 (3875)، صحیح مسلم/ المساجد 7 (538)، سنن ابی داود/الصلاة 170 (923)، مسند احمد (1/376، 409) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہیے، اور دوسرا کام نہیں کرنا چاہئے، وہ کام جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہئے اللہ تعالیٰ کی یاد ہے، اور اس سے خشوع کے ساتھ دل لگانا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عوف بن مالك الجشمي، أبو الأحوص
Newعوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عوف بن مالك الجشمي
ثقة مكثر
👤←👥يونس بن أبي إسحاق السبيعي، أبو إسرائيل
Newيونس بن أبي إسحاق السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← يونس بن أبي إسحاق السبيعي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن سعيد الدارمي، أبو جعفر
Newأحمد بن سعيد الدارمي ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1019 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1019
اردو حاشہ:
فائدہ:
جب نماز میں بات چیت کرنے کی اجازت تھی تو سلام بھی کیا جاتا تھا بعد میں یہ حکم دے دیا گیا کہ کوئی نمازی نماز کے دوران میں دوسرے آدمی کو سلام نہ کرے۔
اس کے لئے نماز کی مصروفیت کافی ہے  پوری توجہ سے ادعیہ اور اذکار میں مصروف رہے۔
لیکن گزشتہ احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی خود تو کسی کو سلام نہیں کرسکتا۔
تاہم اسے سلام کیا جا سکتا ہے۔
وہ زبان سے تو سلام کاجواب نہیں دے سکتا۔
البتہ اشارے سے جواب دے سکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1019]

Sunan Ibn Majah Hadith 1019 in Urdu