Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : فضل عمر رضي الله عنه
باب: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت و طاقت عطا فرما۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17244، ومصباح الزجاجة: 42) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں زنجی بن خالد منکر الحدیث صاحب أوھام راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، حدیث میں «خاصة» کا لفظ متابعت یا شاہد کے نہ ملنے سے ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 6036، وصحیح السیرة النبویة)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله خاصة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم بن خالد الزنجي: ضعيف،ضعفه النسائي (الضعفاء: 569) والجمھور وقال البخاري: ’’ منكر الحديث‘‘ (كتاب الضعفاء بتحقيقي: 352)
وانظر ضعيف سنن أبي داود (3510)
وللحديث شاھد معلول عندالحاكم (3/ 83 ح 4485)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥مسلم بن خالد بن سعيد الزنجي، أبو خالد، أبو عبد الله
Newمسلم بن خالد بن سعيد الزنجي ← هشام بن عروة الأسدي
صدوق كثير الأوهام
👤←👥عبد الملك بن عبد العزيز الماجشون، أبو مروان
Newعبد الملك بن عبد العزيز الماجشون ← مسلم بن خالد بن سعيد الزنجي
مقبول
👤←👥محمد بن أبي عباد القرشي، أبو عبيد
Newمحمد بن أبي عباد القرشي ← عبد الملك بن عبد العزيز الماجشون
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
105
اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 105 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث105
اردو حاشہ:
(1)
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم شواہد کی بنا پر صحیح ہے، لیکن اس روایت میں مذکور لفظ (خاصۃ)
صحیح نہیں ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے اسی حدیث کی تحقیق و تخریج۔

(2)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ 6 نبوت یعنی ہجرت سے سات سال پہلے کا ہے دیکھیے: (الرحیق المختوم، از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری، ص: 145)
جب کہ اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر تقریبا ایک برس کی ہو گی، اس لیے اگر یہ دعا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے متعلق ہے، تو ظاہر ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی، کسی اور صحابی سے یہ حدیث سنی ہو گی۔
لیکن اس بنا پر اس حدیث کو ضعیف نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس صورت میں یہ مراسیل صحابہ میں شمار ہو گی جو محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔
لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دعا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے لیے نہ ہو۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا اس زمانے میں فرمائی ہو جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آ چکی تھیں اور اس طرح انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی ہو۔
اس صورت میں اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آئندہ زندگی کے کارہائے نمایاں مراد ہوں گے، جن میں روم و ایران جیسی طاقت ور کافر حکومتوں کی شکست، اور اسلامی سلطنت کی حیرت انگیز حد تک توسیع بھی شامل ہے۔

(3)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کرنا، ان کی فضیلت کی واضح دلیل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 105]