سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : فضل عمر رضي الله عنه
باب: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُول:" خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبُو بَكْرٍ، وَخَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ".
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں، اور ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر عمر ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10189، ومصباح الزجاجة: 41)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3671)، سنن ابی داود/السنة 8 (4629) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
106
| خير الناس بعد رسول الله أبو بكر وخير الناس بعد أبي بكر عمر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 106 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث106
اردو حاشہ:
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افضیلت کے قائل تھے، اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف جو اس قسم کے اقوال منسوب ہیں، جن میں اس کے برعکس بات کہی گئی ہے، وہ من گھڑت ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افضیلت کے قائل تھے، اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف جو اس قسم کے اقوال منسوب ہیں، جن میں اس کے برعکس بات کہی گئی ہے، وہ من گھڑت ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 106]
عبد الله بن سلمة المرادي ← علي بن أبي طالب الهاشمي