سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب في فضل الجمعة
باب: جمعہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14038)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 5 (233)، سنن الترمذی/المواقیت 47 (214)، مسند احمد (2/481) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
551
| الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن |
صحيح مسلم |
552
| الصلوات الخمس الجمعة إلى الجمعة رمضان إلى رمضان مكفرات ما بينهن إذا اجتنب الكبائر |
صحيح مسلم |
550
| الصلاة الخمس والجمعة إلى الجمعة كفارة لما بينهن ما لم تغش الكبائر |
جامع الترمذي |
214
| الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن ما لم تغش الكبائر |
سنن ابن ماجه |
1086
| الجمعة إلى الجمعة كفارة ما بينهما ما لم تغش الكبائر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1086 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1086
اردو حاشہ:
فائدہ:
(1)
صغیرہ گناہ نیکیوں کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔
(2)
کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتےہیں۔
(3)
بعض کبیرہ گناہ ایسے ہوتے ہیں۔
کہ ان کی موجودگی میں نیک اعمال کرنے کے باوجود صغیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے۔
فائدہ:
(1)
صغیرہ گناہ نیکیوں کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔
(2)
کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتےہیں۔
(3)
بعض کبیرہ گناہ ایسے ہوتے ہیں۔
کہ ان کی موجودگی میں نیک اعمال کرنے کے باوجود صغیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1086]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 550
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازیں، جمعہ اگلے جمعہ تک درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبائر کا ارتکاب نہیں کیا جاتا۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:550]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
مَا لَمْ تُغْشَ:
غشيان کا اصل معنی ”کسی کے پاس آنا ہے“ کہتے ہیں:
"غَشِيَ فُلَانًا" ”فلاں کے پاس آیا“ یہاں مقصد گناہوں کا ارتکاب ہے،
جس کو آگے اجتناب الکبائر،
بڑے گناہوں سے بچنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔
مفردات الحدیث:
:
مَا لَمْ تُغْشَ:
غشيان کا اصل معنی ”کسی کے پاس آنا ہے“ کہتے ہیں:
"غَشِيَ فُلَانًا" ”فلاں کے پاس آیا“ یہاں مقصد گناہوں کا ارتکاب ہے،
جس کو آگے اجتناب الکبائر،
بڑے گناہوں سے بچنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 550]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 552
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”پانچ نمازیں، جمعہ سے اگلے جمعہ تک، رمضان اگلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں جب کہ انسان کبیرہ گناہوں سے بچے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:552]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان سے مختلف قسم کے گناہ اور قصور سرزد ہوتے رہتے ہیں،
اس لیے مختلف گناہوں کے لیے مختلف قسم کی عبادات کفارہ بنتی ہیں،
کچھ وضو سے معاف ہوتے ہیں،
کچھ کا کفارہ نماز بنتی ہے اور بعض گناہ جمعہ سے معاف ہوتے ہیں،
بعض کی بخشش روزے سے ہوتی ہے،
اسی طرح اور عبادات ہیں،
لیکن کبیرہ گناہوں کی آلودگی اور نجاست اس قدر غلیظ ہوتی ہے اور اس کے قبیح اثرات اس قدر گہرے اور پختہ ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف تو بہ واستغفار سے ہو سکتا ہے۔
ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی پر خصوصی رحم فرما کر یونہی معاف کر دے،
تو اس کا فضل وکرم انتہائی وسیع ہے،
وہ کسی کا پابند نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
”اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے،
تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے۔
“ (النِّساء: 31)
فوائد ومسائل:
انسان سے مختلف قسم کے گناہ اور قصور سرزد ہوتے رہتے ہیں،
اس لیے مختلف گناہوں کے لیے مختلف قسم کی عبادات کفارہ بنتی ہیں،
کچھ وضو سے معاف ہوتے ہیں،
کچھ کا کفارہ نماز بنتی ہے اور بعض گناہ جمعہ سے معاف ہوتے ہیں،
بعض کی بخشش روزے سے ہوتی ہے،
اسی طرح اور عبادات ہیں،
لیکن کبیرہ گناہوں کی آلودگی اور نجاست اس قدر غلیظ ہوتی ہے اور اس کے قبیح اثرات اس قدر گہرے اور پختہ ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف تو بہ واستغفار سے ہو سکتا ہے۔
ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی پر خصوصی رحم فرما کر یونہی معاف کر دے،
تو اس کا فضل وکرم انتہائی وسیع ہے،
وہ کسی کا پابند نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
”اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے،
تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے۔
“ (النِّساء: 31)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 552]
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي