Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. باب في فضل الجمعة
باب: جمعہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14038)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 5 (233)، سنن الترمذی/المواقیت 47 (214)، مسند احمد (2/481) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي، أبو تمام
Newعبد العزيز بن أبي حازم المخزومي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
ثقة
👤←👥محرز بن سلمة العدني
Newمحرز بن سلمة العدني ← عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
551
الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن
صحيح مسلم
552
الصلوات الخمس الجمعة إلى الجمعة رمضان إلى رمضان مكفرات ما بينهن إذا اجتنب الكبائر
صحيح مسلم
550
الصلاة الخمس والجمعة إلى الجمعة كفارة لما بينهن ما لم تغش الكبائر
جامع الترمذي
214
الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن ما لم تغش الكبائر
سنن ابن ماجه
1086
الجمعة إلى الجمعة كفارة ما بينهما ما لم تغش الكبائر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1086 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1086
اردو حاشہ:
فائدہ:

(1)
صغیرہ گناہ نیکیوں کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔

(2)
کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتےہیں۔

(3)
بعض کبیرہ گناہ ایسے ہوتے ہیں۔
کہ ان کی موجودگی میں نیک اعمال کرنے کے باوجود صغیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1086]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 550
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں، جمعہ اگلے جمعہ تک درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبائر کا ارتکاب نہیں کیا جاتا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:550]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
مَا لَمْ تُغْشَ:
غشيان کا اصل معنی کسی کے پاس آنا ہے کہتے ہیں:
"غَشِيَ فُلَانًا" فلاں کے پاس آیا یہاں مقصد گناہوں کا ارتکاب ہے،
جس کو آگے اجتناب الکبائر،
بڑے گناہوں سے بچنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 550]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 552
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: پانچ نمازیں، جمعہ سے اگلے جمعہ تک، رمضان اگلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں جب کہ انسان کبیرہ گناہوں سے بچے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:552]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان سے مختلف قسم کے گناہ اور قصور سرزد ہوتے رہتے ہیں،
اس لیے مختلف گناہوں کے لیے مختلف قسم کی عبادات کفارہ بنتی ہیں،
کچھ وضو سے معاف ہوتے ہیں،
کچھ کا کفارہ نماز بنتی ہے اور بعض گناہ جمعہ سے معاف ہوتے ہیں،
بعض کی بخشش روزے سے ہوتی ہے،
اسی طرح اور عبادات ہیں،
لیکن کبیرہ گناہوں کی آلودگی اور نجاست اس قدر غلیظ ہوتی ہے اور اس کے قبیح اثرات اس قدر گہرے اور پختہ ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف تو بہ واستغفار سے ہو سکتا ہے۔
ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی پر خصوصی رحم فرما کر یونہی معاف کر دے،
تو اس کا فضل وکرم انتہائی وسیع ہے،
وہ کسی کا پابند نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے،
تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے۔
(النِّساء: 31)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 552]