🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب : ما جاء في الرخصة في ذلك
باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ يُجْزِئُ عَنْهُ الْفَرِيضَةُ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1682، ومصباح الزجاجة: 384) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں یزید بن ابان ضعیف ہیں، اس لئے حدیث میں وارد یہ ٹکڑا «يجزئ عنه الفريضة» صحیح نہیں ہے، بقیہ حدیث دوسرے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 540)۔
وضاحت: ۱؎: «فبها» کا مطلب ہے «فباالرخصة أخذ» یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا ہے اور نعمت کا مطلب «هي الرخصة» یعنی یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے واجب نہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ اس میں ایک تو وضو پر اکتفا کرنے کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے غسل نہ کر نے کی اجازت نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون يجزىء عنه الفريضة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن مسلم المكي: ضعيف
ويزيد الرقاشي: ضعيف
وحديث أبي داود (354) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥يزيد بن أبان الرقاشي، أبو عمرو
Newيزيد بن أبان الرقاشي ← أنس بن مالك الأنصاري
ضعيف زاهد
👤←👥إسماعيل بن مسلم المكي، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن مسلم المكي ← يزيد بن أبان الرقاشي
منكر الحديث
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← إسماعيل بن مسلم المكي
ثقة متقن
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1091
من توضأ يوم الجمعة فبها ونعمت يجزئ عنه الفريضة ومن اغتسل فالغسل أفضل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1091 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1091
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مذید لکھا ہے کہ مذکورہ روایت سے ابوداؤد کی روایت کفایت کرتی ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دوسرے محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
لہٰذا یہ روایت محققین کے نزدیک قابل عمل اور قابل حجت ہے۔

(2)
غسل کرنا جمعے کی صحت کےلئے شرط نہیں تاہم مستحب (پسندیدہ)
امر ہے۔

(3)
اگر کسی مصروفیت کی وجہ سے غسل نہ کرسکیں۔
اور جمعے کا وقت ہوجائے تو وضو کرکے جمعہ کےلئے چلے جانا چاہیے۔
کیونکہ خطبہ سننے کی اہمیت غسل سے زیادہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1091]