سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. باب : ما جاء في التهجير إلى الجمعة
باب: جمعہ کے لیے مسجد سویرے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَوَجَدَ ثَلَاثَةً وَقَدْ سَبَقُوهُ، فَقَالَ: رَابِعُ أَرْبَعَةٍ، وَمَا رَابِعُ أَرْبَعَةٍ بِبَعِيدٍ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ يَجْلِسُونَ مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ رَوَاحِهِمْ إِلَى الْجُمُعَاتِ، الْأَوَّلَ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ، ثُمَّ قَالَ: رَابِعُ أَرْبَعَةٍ، وَمَا رَابِعُ أَرْبَعَةٍ بِبَعِيدٍ".
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا، انہوں نے تین آدمیوں کو دیکھا جو ان سے آگے بڑھ گئے تھے، تو کہا: میں چار میں سے چوتھا ہوں اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس اسی ترتیب سے بیٹھیں گے جس ترتیب سے جمعہ کے لیے پہلے اور بعد میں جاتے رہتے ہیں، جمعہ کے لیے پہلے جانے والا وہاں بھی پہلے درجہ میں دوسرا دوسرے درجہ میں اور تیسرا تیسرے درجہ میں“ پھر کہا: چار میں سے چوتھا اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1094]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعے کے لیے گیا، انہوں نے دیکھا کہ ان سے پہلے تین افراد (مسجد میں) آ چکے ہیں تو انہوں نے فرمایا: ”چار میں چوتھا ہوں اور چار میں چوتھا (افضلیت سے) دور نہیں۔“ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”قیامت کے دن لوگ جمعے میں جلدی آنے کی ترتیب سے اللہ کے قریب بیٹھیں گے۔ پہلا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔“ پھر فرمایا: ”چار افراد میں چوتھا اور چار افراد میں چوتھے نمبر پر آنے والا دور نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9439، ومصباح الزجاجة: 387) (ضعیف)» (اس حدیث کی سند میں عبد المجید بن عبد العزیز بن أبی رواد ہیں، جو صدوق روای ہیں لیکن خطاء کرتے ہیں، ان کی طرف سے اس حدیث میں اضطراب ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2810)
وضاحت: ۱؎: ”چار میں کا چوتھا کچھ دور نہیں ہے“ یعنی اپنے نفس کو دیر میں آنے پر تنبیہ کی اور اس کو دھمکایا، اور بعضوں نے کہا: اپنے نفس کو تسلی دی کہ تین ہی آدمیوں سے پیچھے رہا، اور اپنے مالک سے قرب میں چوتھے درجہ میں ہوا، اور یہ درجہ بھی غنیمت ہے چنداں دور نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1094
| الناس يجلسون من الله يوم القيامة على قدر رواحهم إلى الجمعات الأول والثاني والثالث ثم قال رابع أربعة وما رابع أربعة ببعيد |
Sunan Ibn Majah Hadith 1094 in Urdu
إبراهيم النخعي ← علقمة بن قيس النخعي