🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. باب : ما جاء فيمن دخل المسجد والإمام يخطب
باب: دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1114
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا".
ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے (میرے نزدیک) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو، اور ہلکی پڑھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1114]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم نے آنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب دو رکعتیں پڑھ لو اور ہلکی پڑھنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابی داود/الصلاة 237 (1116)، (تحفة الأشراف: 2294و 12368)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 32 (930)، 33 (931)، سنن الترمذی/الجمعة 15 (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، مسند احمد (3/380)، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1592) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث میں «قبل أن تجیٔ» کا جملہ شاذ ہے)
وضاحت: ۱؎: امام مزی کہتے ہیں کہ راوی نے اس روایت میں غلطی کی، اور «صواب» یہ ہے «أصلّيت ركعتين قبل أن تجلس» اس کو راوی نے «تجيىء» کر دیا۔ اب علماء کا اختلاف یہ ہے کہ تحیۃ المسجد سنت ہے یا واجب؟ ظاہر حدیث سے اس کا وجوب نکلتا ہے، اور امام شوکانی نے ایک مستقل رسالہ میں اس کے وجوب کو ثابت کیا ہے، اور علامہ نواب صدیق حسن نے الروضہ الندیہ (۱؍۳۷۲) میں اسی کو حق کہا ہے، دلائل کی روشنی میں جمعہ کے دن مسجد میں آنے والے کے لئے دو رکعت ادا کرنا کم سے کم سنت موکدہ تو ہے ہی۔ جبکہ محققین نے اس کو واجب کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله قبل أن تجيء فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حفص بن غياث: عنعن وھو مدلس
والحديث في صحيح مسلم (875) ولم يذكر ’’ قبل أن تجئ ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان
Newطلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← طلحة بن نافع القرشي
صحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥داود بن رشيد الهاشمي، أبو الفضل
Newداود بن رشيد الهاشمي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1116
أصليت شيئا قال لا قال صل ركعتين تجوز فيهما
سنن ابن ماجه
1114
أصليت ركعتين قبل أن تجيء قال لا قال فصل ركعتين وتجوز فيهما
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1114 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1114
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ مذکورہ روایت (قبل ان تجيء)
 کے الفاظ کے بغیر صحیح مسلم اور ابوداؤد میں بھی مروی ہے۔
جس کا ذکر صاحب تحقیق نے نیچے حاشہ میں کیا ہے۔
اور سنن ابوداؤد (حدیث: 1116)
میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت (قبل ان تجيء)
 کے الفاظ کے بغیر صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1114]

Sunan Ibn Majah Hadith 1114 in Urdu