🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب : ما جاء فيمن أدرك من الجمعة ركعة
باب: جمعہ کی ایک رکعت پانے والے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1123
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ أَوْ غَيْرِهَا، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ یا کسی بھی نماز سے ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7001)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المواقیت 30 (558) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← يونس بن يزيد الأيلي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص
Newعمرو بن عثمان القرشي ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
558
من أدرك ركعة من الجمعة أو غيرها فقد تمت صلاته
سنن ابن ماجه
1123
من أدرك ركعة من صلاة الجمعة أو غيرها فقد أدرك الصلاة
المعجم الصغير للطبراني
255
من أدرك من الجمعة ركعة فقد أدرك
بلوغ المرام
358
من أدرك ركعة من صلاة الجمعة وغيرها فليضف إليها أخرى وقد تمت صلاته
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1123 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1123
اردو حاشہ:
فائدہ:
اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ جسے جماعت کے ساتھ ایک رکعت مل گئی تو وہ جماعت کے ثواب سے محروم نہیں رہا، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر ایک رکعت وقت کے اندر پڑھ لی پھر وقت ختم ہوگیا تو وہ نماز قضا نہیں ہوئی مثلاً فجر کی ایک رکعت پڑھی تھی۔
کہ سورج طلوع ہوگیا یا عصر کی ایک رکعت پڑھی تھی کہ سورج غروب ہوگیا اس صورت میں اسے اپنی نماز مکمل کرلینی چاہیے تاہم بلاعذر اس قدر تاخیر کرنا منع ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1123]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 358
نماز جمعہ کا بیان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے نماز جمعہ اور دیگر نمازوں میں سے کسی کی ایک رکعت (جماعت کے ساتھ) پا لی تو وہ دوسری اس کے ساتھ ملا لے۔ تو بس اس کی نماز پوری ہو گئی۔
اسے نسائی ‘ ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ دارقطنی کے ہیں۔ اس کی سند صحیح ہے لیکن ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو قوی قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 358»
تخریج:
«أخرجه النسائي، المواقيت، باب من أدرك ركعة من الصلاة، حديث:558، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1123، والدارقطني:2 /12.»
تشریح:
1. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جمعے کی ایک رکعت پا لینے والا دوسری رکعت ساتھ ملا کر مکمل کر لے۔
ظاہر ہے جو شخص ایک ہی رکعت پا سکا اس کا خطبہ ٔجمعہ تو فوت ہوگیا‘ مگر اس کا جمعہ صحیح ہوگا۔
امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ دونوں کی یہی رائے ہے۔
خطبۂجمعہ میں شریک ہونا ضروری نہیں۔
2. مصنف رحمہ اللہ نے گو یہاں اس روایت کی سند کو صحیح کہا ہے مگر التلخیص میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے‘ لیکن «مَنْ أَدْرَکَ الرَّکْعَۃَ فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ» کی صحت میں تو کسی کو کلام نہیں۔
اس کے عموم میں جمعہ بھی شامل ہے۔
اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ایک رکعت سے کم ملے تو اس کی جمعے کی نماز نہیں ہوتی‘ تب اسے ظہر کی نماز چار رکعت پڑھنی چاہیے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 358]