یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب : فضل علي بن أبي طالب رضي الله عنه
باب: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ عَلِيٌّ: " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ لا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلا كَذَّابٌ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ".
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 120]
حضرت عباد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد یہ بات وہی کہے گا جو انتہائی جھوٹا ہے۔ میں نے دوسروں سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10157، ومصباح الزجاجة: 51) (باطل)» (سند میں عباد بن عبداللہ ضعیف اور متروک ر1وی ہے، اور اس کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا: «فيه نظر» اور وہی حدیث کے بطلان کا سبب ہے، امام ذہبی نے فرمایا: یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ ہے، ملاحظہ ہو: الموضوعات لابن الجوزی: 1/341، وتلخیص المستدرک للذہبی، وتنزیہ الشریعة: 1/386، وشیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ: 310، للدکتور عبد الرحمن الفریوائی)
قال الشيخ الألباني: باطل
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عباد بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 3136)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
إسناده ضعيف جدًا
عباد بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 3136)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 120 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث120
اردو حاشہ:
یہ روایت ضعیف ہے۔
علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے باطل قرار دیا ہے۔
درایتاً بھی غور کیا جائے تو اولاً حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سات سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والے صرف وہی تھے، جبکہ نزول نبوت سے سات سال تک کا عرصہ تو بہت طویل ہے۔
ابتدائی تین سال کی خاموش تبلیغ کے نتیجہ میں ہی مکہ مکرمہ میں اسلام کی دعوت بہت سے حضرات قبول کر چکے تھے اور ثانیاً حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے اللہ تعالیٰ کے صالح، منکسر المزاج بندے یہ فخریہ کلمات کس طرح کہہ سکتے تھے کہ میں ہی صدیق اکبر ہوں۔
اس لحاظ سے یہ روایت واقعی سخت ضعیف اور باطل ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے باطل قرار دیا ہے۔
درایتاً بھی غور کیا جائے تو اولاً حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سات سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والے صرف وہی تھے، جبکہ نزول نبوت سے سات سال تک کا عرصہ تو بہت طویل ہے۔
ابتدائی تین سال کی خاموش تبلیغ کے نتیجہ میں ہی مکہ مکرمہ میں اسلام کی دعوت بہت سے حضرات قبول کر چکے تھے اور ثانیاً حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے اللہ تعالیٰ کے صالح، منکسر المزاج بندے یہ فخریہ کلمات کس طرح کہہ سکتے تھے کہ میں ہی صدیق اکبر ہوں۔
اس لحاظ سے یہ روایت واقعی سخت ضعیف اور باطل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 120]
Sunan Ibn Majah Hadith 120 in Urdu
المنهال بن عمرو الأسدي ← علي بن أبي طالب الهاشمي