🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
132. . باب : ما جاء فيمن شك في صلاته فرجع إلى اليقين
باب: نماز میں شک کی صورت میں یقینی بات پر عمل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1209
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالْوَاحِدَةِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ لِيُتِمَّ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک، تو ایک کو اختیار کرے، (کیونکہ وہ یقینی ہے) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے، پھر باقی نماز پوری کرے، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1209]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جب کسی کو دو اور ایک کے درمیان شک ہو جائے تو ایک رکعت شمار کرے اور دو اور تین کے درمیان شک ہو تو دو رکعتیں شمار کر لے۔ اگر تین اور چار کے درمیان شک پڑ جائے تو تین رکعتیں سمجھ لے۔ پھر باقی نماز پوری کر لے حتیٰ کہ شک اضافے کے بارے میں رہ جائے۔ پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 175 (398)، (تحفة الأشراف: 9722)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/190، 193، 195) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کی رائے کسی طرف قرار نہ پکڑے، اور دونوں جانب برابر ہوں یعنی غلبہ ظن کسی طرف نہ ہو تو کم عدد اختیار کرے کیونکہ اس میں احتیاط ہے، اگر غلطی ہو گی تو یہی ہو گی کہ نماز زیادہ ہو جائے گی، اور وہ بہتر ہے کم ہو جانے سے، اور اس حالت میں یہ حدیث اگلی حدیثوں کے خلاف نہ ہو گی، جن میں سوچنے کا ذکر ہے، اور بعضوں نے کہا سوچنا چاہئے، بلکہ ہر حال میں یقین کی طرف رجوع کرنا چاہئے، اور کم عدد اختیار کرنا چاہئے، اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر پہلی مرتبہ ایسا اتفاق ہو تو نماز سرے سے دوبارہ پڑھے، اگر دوسری یا تیسری بار ہو تو سوچے اور جس رائے پر اطمینان ہو اس پر عمل کرے، اگر کسی پر رائے اطمینان نہ ہو تو کم کو اختیار کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عوف الزهري، أبو محمدصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عبد الرحمن بن عوف الزهري
صحابي
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥مكحول بن أبي مسلم الشامي، أبو مسلم، أبو عبد الله، أبو أيوب
Newمكحول بن أبي مسلم الشامي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة فقيه كثير الإرسال
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← مكحول بن أبي مسلم الشامي
صدوق مدلس
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن أحمد الرقي، أبو يوسف
Newمحمد بن أحمد الرقي ← محمد بن سلمة الباهلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
398
إذا سها أحدكم في صلاته فلم يدر واحدة صلى أو ثنتين فليبن على واحدة فإن لم يدر ثنتين صلى أو ثلاثا فليبن على ثنتين فإن لم يدر ثلاثا صلى أو أربعا فليبن على ثلاث وليسجد سجدتين قبل أن يسلم
سنن ابن ماجه
1209
إذا شك أحدكم في الثنتين والواحدة فليجعلها واحدة وإذا شك في الثنتين والثلاث فليجعلها ثنتين وإذا شك في الثلاث والأربع فليجعلها ثلاثا ثم ليتم ما بقي من صلاته حتى يكون الوهم في الزيادة ثم يسجد سجدتين وهو جالس قبل أن يسلم
Sunan Ibn Majah Hadith 1209 in Urdu