سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
140. . باب في صلاة النافلة قاعدا
باب: نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا".
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1228]
حضرت عبداللہ بن شقیق عقیلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا ایک طویل حصہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور رات کا ایک طویل حصہ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، (تحفة الأشراف: 16205)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 179 (955)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (375)، سنن النسائی/ قیام اللیل 16 (1647)، مسند احمد (6/262، 365) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غرض نفل میں ہر طرح اختیار ہے چاہے بیٹھ کر پڑھے، چاہے کھڑے ہوکر شروع کرے پھر بیٹھ جائے، چاہے بیٹھ کر شروع کرے پھر کھڑا ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1647
| إذا صلى قائما ركع قائما وإذا صلى قاعدا ركع قاعدا |
سنن النسائى الصغرى |
1648
| إذا افتتح الصلاة قائما ركع قائما إذا افتتح الصلاة قاعدا ركع قاعدا |
صحيح مسلم |
1702
| إذا قرأ قائما ركع قائما وإذا قرأ قاعدا ركع قاعدا |
صحيح مسلم |
1703
| إذا افتتح الصلاة قائما ركع قائما إذا افتتح الصلاة قاعدا ركع قاعدا |
صحيح مسلم |
1700
| إذا صلى قائما ركع قائما وإذا صلى قاعدا ركع قاعدا |
جامع الترمذي |
375
| إذا قرأ وهو قائم ركع وسجد وهو قائم وإذا قرأ وهو جالس ركع وسجد وهو جالس |
سنن أبي داود |
955
| إذا صلى قائما ركع قائما وإذا صلى قاعدا ركع قاعدا |
سنن ابن ماجه |
1228
| إذا قرأ قائما ركع قائما وإذا قرأ قاعدا ركع قاعدا |
Sunan Ibn Majah Hadith 1228 in Urdu
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق