سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
153. . باب : ما جاء في صلاة الاستسقاء
باب: نماز استسقا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1268
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّهَ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز استسقاء پڑھنے کے لیے نکلے، تو بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا، پھر اپنی چادر پلٹی تو دایاں جانب بائیں کندھے پر اور بایاں جانب دائیں کندھے پر کر لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1268]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کہلوائے بغیر ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر خطبہ دیا، اللہ سے دعا کی اور ہاتھ اٹھائے ہوئے قبلہ رخ ہو گئے، پھر اپنی چادر کو پلٹا یعنی دائیں حصے کو بائیں طرف اور بائیں کو دائیں طرف کر لیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12291، ومصباح الزجاجة: 442)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/326) (ضعیف)» (بوصیری نے اسناد کو صحیح کہا اور رجال کو ثقات بتایا، جب کہ سند میں نعمان بن راشد صدوق سئی الحفظ ہیں، ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ نعمان کی توثیق کے سلسلہ میں دل میں کچھ شک ہے، اس لئے کہ ان کی زہری سے روایت میں بہت خلط ملط ہے، اگر یہ خبر ثابت ہو جائے، تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا اور دعا کی، اور دو مرتبہ اپنی چادر پلٹی، ایک بار صلاة سے پہلے ایک بار اس کے بعد صحیح ابن خزیمہ: 2/338، لیکن البانی صاحب نے حدیث کی تضعیف کی)
وضاحت: ۱؎: استسقا (بارش طلب کرنے) میں جہاں تک ہو سکے امام کو اور رعایا کو اللہ تعالی سے گڑگڑا کر رو رو کر دعائیں مانگنی چاہئے، اور سب لوگوں کو اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کرنا چاہئے، کیونکہ پانی گناہوں کی نحوست سے رک جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال ابن خزيمة في صحيحه: ’’ في القلب من النعمان بن راشد فإن في حديثه عن الزهري تخليط كثير ‘‘(1422) والزهري مدلس وعنعن (د 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
إسناده ضعيف
قال ابن خزيمة في صحيحه: ’’ في القلب من النعمان بن راشد فإن في حديثه عن الزهري تخليط كثير ‘‘(1422) والزهري مدلس وعنعن (د 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1271
| استسقى حتى رأيت أو رئي بياض إبطيه |
سنن ابن ماجه |
1268
| يستسقي فصلى بنا ركعتين بلا أذان ولا إقامة ثم خطبنا ودعا الله وحول وجهه نحو القبلة رافعا يديه ثم قلب رداءه فجعل الأيمن على الأيسر والأيسر على الأيمن |
Sunan Ibn Majah Hadith 1268 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي