سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
156. . باب : ما جاء في كم يكبر الإمام في صلاة العيدين
باب: عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟
حدیث نمبر: 1279
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ: سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ".
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجمعة 34 (536)، (تحفة الأشراف: 10774) (صحیح)» (اس سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث کثrت طرق کی وجہ سے صحیح ہے، جیسا کہ اس باب کی سابقہ اور آنے والی احادیث سے واضح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمرو بن عوف المزني، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن عمرو المزني، أبو كثير عبد الله بن عمرو المزني ← عمرو بن عوف المزني | مقبول | |
👤←👥كثير بن عبد الله المزني كثير بن عبد الله المزني ← عبد الله بن عمرو المزني | متروك الحديث | |
👤←👥محمد بن عثمة البصري محمد بن عثمة البصري ← كثير بن عبد الله المزني | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن عبد الله الهلالي، أبو مسعود محمد بن عبد الله الهلالي ← محمد بن عثمة البصري | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
536
| كبر في العيدين في الأولى سبعا قبل القراءة وفي الآخرة خمسا قبل القراءة |
سنن ابن ماجه |
1279
| كبر في العيدين سبعا في الأولى وخمسا في الآخرة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1279 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابن ماجہ 1279
عیدین کی نماز میں تکبیرات زوائد پر رفع یدین کرنا
عیدین کی نماز میں تکبیرات زوائد پر رفع یدین کرنا بالکل صحیح ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرتے تھے۔ [ابوداود ح 722، مسند احمد 2/ 133، 134 ح 6175، منتقی ابن الجارود ص 69 ح 178]
اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے، بعض لوگوں کا عصرِ حاضر میں اس حدیث پر جرح کرنا مردود ہے۔
امام بیہقی اور امام ابن المنذر نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ تکبیرات ِ عیدین میں بھی رفع یدین کرنا چاہئے۔ دیکھئے: [التلخيص الحبير ج 1 ص 86 ح 692 والسنن الكبريٰ للبيهقي 3/ 292، 293 والاوسط لابن المنذر 4/ 282]
عید الفطر والی تکبیرات کے بارے میں عطاء بن ابی رباح (تابعی) فرماتے ہیں: «نعم ويرفع الناس أيضًا» جی ہاں! ان تکبیرات میں رفع یدین کرنا چاہئے، اور (تمام) لوگوں کو بھی رفع یدین کرنا چاہئے۔ [مصنف عبدالرزاق 3/ 296 ح 5699، وسندہ صحیح]
امام اہلِ الشام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «نعم ارفع يديك مع كلهن» جی ہاں، ان ساری تکبیروں کے ساتھ رفع یدین کرو۔ [احكام العيدين للفريابي ح 136، وسنده صحيح]
امام دارالہجرۃ مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا: «نعم، إرفع يديك مع كل تكبيرة ولم أسمع فيه شيئًا» جی ہاں، ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرو اور میں نے اس (کے خلاف) کوئی چیز نہیں سنی۔ [احكام العيدين ح 137، وسنده صحيح]
اس صحیح قول کے خلاف مالکیوں کی غیر مستند کتاب ”مدونہ“ میں ایک بے سند قول مذکور ہے [ج 1 ص 155]
یہ بے سند حوالہ مردود ہے، ”مدونہ“ کے رد کے لئے دیکھئے میری کتاب القول المتین فی الجہر بالتأمین [ص 73]
اسی طرح علامہ نووی کا حوالہ بھی بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ دیکھئے: [المجموع شرح المهذب ج 5 ص 26]
امام اہلِ مکہ شافعی رحمہ اللہ بھی تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کے قائل تھے۔ دیکھئے: [كتاب الأم ج 1 ص 237]
امام اہلِ سنت احمد بن حنبل فرماتے ہیں: «يرفع يديه فى كل تكبيرة» (عیدین کی) ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرنا چاہئے۔ [مسائل احمد رواية ابي داود ص 60 باب التكبير فى صلوٰة العيد]
ان تمام آثار سلف کے مقابلے میں محمد بن الحسن الشیبانی نے لکھا ہے: «ولا يرفع يديه“» اور (عیدین کی تکبیرات میں) رفع یدین نہ کیا جائے۔ [كتاب الاصل ج 1 ص 374، 375 والاوسط لابن المنذر ج 4 ص 282]
یہ قول دو وجہ سے مردود ہے:
محمد بن الحسن الشیبانی سخت مجروح ہے۔
دیکھئے: [كتاب الضعفاء للعقيلي ج 4 ص 52، وسنده صحيح، و جزء رفع اليدين للبخاري بتحقيقي ص 32]
اس کی توثیق کسی معتبر محدث سے، صراحتاً باسند صحیح ثابت نہیں ہے۔ میں نے اس موضوع پر ایک رسالہ ”النصر الربانی“ لکھا ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ شیبانی مذکور سخت مجروح ہے۔
محمد بن حسن شیبانی کا قول سلف صالحین کے اجماع و اتفاق کے خلاف ہونے کی وجہ سے بھی مردود ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
تحقیقی مقالات جلد 1 صفحہ 47
عیدین کی نماز میں تکبیرات زوائد پر رفع یدین کرنا بالکل صحیح ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرتے تھے۔ [ابوداود ح 722، مسند احمد 2/ 133، 134 ح 6175، منتقی ابن الجارود ص 69 ح 178]
اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے، بعض لوگوں کا عصرِ حاضر میں اس حدیث پر جرح کرنا مردود ہے۔
امام بیہقی اور امام ابن المنذر نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ تکبیرات ِ عیدین میں بھی رفع یدین کرنا چاہئے۔ دیکھئے: [التلخيص الحبير ج 1 ص 86 ح 692 والسنن الكبريٰ للبيهقي 3/ 292، 293 والاوسط لابن المنذر 4/ 282]
عید الفطر والی تکبیرات کے بارے میں عطاء بن ابی رباح (تابعی) فرماتے ہیں: «نعم ويرفع الناس أيضًا» جی ہاں! ان تکبیرات میں رفع یدین کرنا چاہئے، اور (تمام) لوگوں کو بھی رفع یدین کرنا چاہئے۔ [مصنف عبدالرزاق 3/ 296 ح 5699، وسندہ صحیح]
امام اہلِ الشام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «نعم ارفع يديك مع كلهن» جی ہاں، ان ساری تکبیروں کے ساتھ رفع یدین کرو۔ [احكام العيدين للفريابي ح 136، وسنده صحيح]
امام دارالہجرۃ مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا: «نعم، إرفع يديك مع كل تكبيرة ولم أسمع فيه شيئًا» جی ہاں، ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرو اور میں نے اس (کے خلاف) کوئی چیز نہیں سنی۔ [احكام العيدين ح 137، وسنده صحيح]
اس صحیح قول کے خلاف مالکیوں کی غیر مستند کتاب ”مدونہ“ میں ایک بے سند قول مذکور ہے [ج 1 ص 155]
یہ بے سند حوالہ مردود ہے، ”مدونہ“ کے رد کے لئے دیکھئے میری کتاب القول المتین فی الجہر بالتأمین [ص 73]
اسی طرح علامہ نووی کا حوالہ بھی بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ دیکھئے: [المجموع شرح المهذب ج 5 ص 26]
امام اہلِ مکہ شافعی رحمہ اللہ بھی تکبیراتِ عیدین میں رفع یدین کے قائل تھے۔ دیکھئے: [كتاب الأم ج 1 ص 237]
امام اہلِ سنت احمد بن حنبل فرماتے ہیں: «يرفع يديه فى كل تكبيرة» (عیدین کی) ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرنا چاہئے۔ [مسائل احمد رواية ابي داود ص 60 باب التكبير فى صلوٰة العيد]
ان تمام آثار سلف کے مقابلے میں محمد بن الحسن الشیبانی نے لکھا ہے: «ولا يرفع يديه“» اور (عیدین کی تکبیرات میں) رفع یدین نہ کیا جائے۔ [كتاب الاصل ج 1 ص 374، 375 والاوسط لابن المنذر ج 4 ص 282]
یہ قول دو وجہ سے مردود ہے:
محمد بن الحسن الشیبانی سخت مجروح ہے۔
دیکھئے: [كتاب الضعفاء للعقيلي ج 4 ص 52، وسنده صحيح، و جزء رفع اليدين للبخاري بتحقيقي ص 32]
اس کی توثیق کسی معتبر محدث سے، صراحتاً باسند صحیح ثابت نہیں ہے۔ میں نے اس موضوع پر ایک رسالہ ”النصر الربانی“ لکھا ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ شیبانی مذکور سخت مجروح ہے۔
محمد بن حسن شیبانی کا قول سلف صالحین کے اجماع و اتفاق کے خلاف ہونے کی وجہ سے بھی مردود ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
تحقیقی مقالات جلد 1 صفحہ 47
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 47]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 536
عیدین کی تکبیرات کا بیان۔
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 536]
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 536]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ پانچ،
یعنی پہلی میں چار زائد تکبیریں۔
2؎:
یہ کل سات تکبیریں زائد ہوئیں اس کی سند ابن مسعود رضی اللہ عنہ تک صحیح ہے،
لیکن یہ موقوف ہے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بارہ زوائد تکبیرات پر تھا،
ولنا المرفوع۔
نوٹ:
(سند میں کثیر ضعیف راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے،
دیکھئے:
صحیح أبی داود 1045-1046،
والعیدین 26/989)
1؎:
یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ پانچ،
یعنی پہلی میں چار زائد تکبیریں۔
2؎:
یہ کل سات تکبیریں زائد ہوئیں اس کی سند ابن مسعود رضی اللہ عنہ تک صحیح ہے،
لیکن یہ موقوف ہے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بارہ زوائد تکبیرات پر تھا،
ولنا المرفوع۔
نوٹ:
(سند میں کثیر ضعیف راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے،
دیکھئے:
صحیح أبی داود 1045-1046،
والعیدین 26/989)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 536]
عبد الله بن عمرو المزني ← عمرو بن عوف المزني