🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
159. . باب : ما جاء في انتظار الخطبة بعد الصلاة
باب: نماز کے بعد خطبہ کا انتظار کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1290
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: حَضَرْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِنَا الْعِيدَ، ثُمَّ قَالَ:" قَدْ قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا، تو آپ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ہم نماز ادا کر چکے، لہٰذا جو شخص خطبہ کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے، اور جو جانا چاہے جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 253 (1155)، سنن النسائی/العیدین 14 (1572)، (تحفة الأشراف: 5315) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن السائب المخزومي، أبو السائب، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن السائب المخزومي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥عمرو بن رافع البجلي، أبو حجر
Newعمرو بن رافع البجلي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة ثبت
👤←👥هدية بن عبد الوهاب المروزي، أبو صالح
Newهدية بن عبد الوهاب المروزي ← عمرو بن رافع البجلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1572
من أحب أن ينصرف فلينصرف ومن أحب أن يقيم للخطبة فليقم
سنن أبي داود
1155
إنا نخطب فمن أحب أن يجلس للخطبة فليجلس ومن أحب أن يذهب فليذهب
سنن ابن ماجه
1290
قضينا الصلاة فمن أحب أن يجلس للخطبة فليجلس ومن أحب أن يذهب فليذهب
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1290 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1290
اردو حاشہ:
فائدہ:
اس سے معلوم ہوا کہ عید کا خطبہ سننا واجب نہیں تاہم افضل یہی ہے کہ خطبہ سن کرجایئں جس طرح صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کیا کرتے تھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1290]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1572
عید کا خطبہ سننے کے لیے بیٹھنے اور نہ بیٹھنے دونوں کے جواز کا بیان۔
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر فرمایا: جو (واپس) لوٹنا چاہے لوٹ جائے، اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہے ٹھہرے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1572]
1572۔ اردو حاشیہ: عید کا خطبہ سننا فرض نہیں، مستحب ہے، شاید اسی لیے نماز پہلے کر دی گئی ہے تاکہ جو شخص نماز کے بعد جانا چاہے جا سکے، بخلاف جمعے کے خطبے کے جو شخص نماز سے پہلے آجائے، وہ خطبہ ضرور سنے گا۔ عید کا خطبہ سننا فرض نہیں، مستحب ہے، شاید اسی لیے نماز پہلے کر دی گئی ہے تاکہ جو شخص نماز کے بعد جانا چاہے جا سکے، بخلاف جمعے کے خطبے کے جو شخص نماز سے پہلے آجائے، وہ خطبہ ضرور سنے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1572]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1155
خطبہ سننے کے لیے لوگوں کا بیٹھنا۔
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عطا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1155]
1155۔ اردو حاشیہ:
دوسرے محدثین کے نزدیک یہ روایت صحیح یا حسن ہے۔ اس سے عید کے خطبے کے وجو ب کی نفی ہوتی ہے، تاہم اس کے سنت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے اجتماع میں ان عورتوں کو بھی شریک ہونے کی تاکید کی ہے جو ایام حیض میں ہوں اور نماز کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں۔ اس لئے خطبہ عید کے بھی سننے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اس سے تساہل و اعراض سنت سے تساہل و اعراض ہے جو کسی مسلمان کے لئے زیبا نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1155]