🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
176. . باب في حسن الصوت بالقرآن
باب: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي، بَلَغَنِي أَنَّكَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ، فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوا، فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا وَتَغَنَّوْا بِهِ، فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا".
عبدالرحمٰن بن سائب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا ہو گئے تھے، میں نے ان کو سلام کیا، تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں (اپنے بارے میں) بتایا: تو انہوں نے کہا: بھتیجے! تمہیں مبارک ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو، تو رؤو، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو ۱؎، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1337]
حضرت عبدالرحمن بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے، اس وقت ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: تم کون ہو؟ میں نے بتایا (کہ عبدالرحمن بن سائب ہوں) تو انہوں نے فرمایا: بھتیجے کو خوش آمدید! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن مجید کی تلاوت بڑی عمدہ آواز سے کرتے ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: یہ قرآن غم کے ساتھ نازل ہوا ہے، جب تم اسے پڑھو تو رویا کرو، رونا نہ آئے تو تکلف سے روؤ اور اسے اچھی آواز سے پڑھو۔ جو اسے اچھی آواز سے (تجوید کے اصولوں کے مطابق) نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3900، ومصباح الزجاجة: 469) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 355 (1469) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں راوی ابورافع، اسماعیل بن رافع ضعیف ومترو ک ہیں، لیکن آخری جملہ «وتغنوا به» صحیح ہے، کیونکہ صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، (البخاری 13/ 50 و مسلم (1/545)
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «تغنى» کا لفظ ہے، اور «تغنى» کا معنی گانا ہے، قرآن میں «تغنى» نہیں ہو سکتی، لہذا «تغنى» سے یہ مراد ہو گا کہ باریک آواز سے درد کے ساتھ اس کو پڑھنا بایں طور کہ پڑھنے والے پر اور سننے والے سب پر اثر ہو، اور دلوں میں اللہ کا خوف اور خشوع پیدا ہو، اور تجوید کے قواعد کی رعایت باقی رہے، کلمات اور حروف میں کمی اور بیشی نہ ہو، سفیان بن عیینہ نے کہا: «تغنی بالقرآن» کا یہ معنی ہے کہ قرآن کو دولت لازوال سمجھے، اور دنیا داروں سے غنی یعنی بے پرواہ رہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (4196) مختصرًا
قال البو صيري: ’’ فيه أبو رافع واسمه: إسماعيل بن رافع،ضعيف متروك ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي نهيك القرشي
Newعبد الله بن أبي نهيك القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن أبي نهيك القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن رافع الأنصاري، أبو رافع
Newإسماعيل بن رافع الأنصاري ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
متروك الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← إسماعيل بن رافع الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن أحمد البهراني، أبو محمد، أبو عمرو
Newعبد الله بن أحمد البهراني ← الوليد بن مسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1469
ليس منا من لم يتغن بالقرآن
سنن ابن ماجه
4196
ابكوا فإن لم تبكوا فتباكوا
سنن ابن ماجه
1337
القرآن نزل بحزن فإذا قرأتموه فابكوا فإن لم تبكوا فتباكوا تغنوا به فمن لم يتغن به فليس منا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1337 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1337
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
نیز دیگر محققین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
تاہم دکتور بشار عواد سنن ابن ماجہ کی تحقیق میں لکھتے ہیں۔
کہ مذکورہ روایت سنداً تو ضعیف ہے۔
لیکن اس کا آخری جملہ (وَتَغَنَّوْا بِهِ فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا)
 اور قرآن مجید کواچھی آواز سے پڑھو صحیح ہے کیونکہ یہی مسئلہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (لَيْسَ مِنَّا مَن لَّمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ)
 جوشخص قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں لہٰذا اس جملے کے سوا باقی روایت سنداً ضعیف ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (سنن ابن ماجة، للدکتور بشا رعواد، حدیث: 1337)

(2)
اس حدیث کے آخری جملے (وَتَغَنَّوْا بِهِ فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ)
کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے۔
جسے علامہ خطابی نے ذکر کیا ہے۔
لم يتغن بمعنی لم يستغن ہے۔
یعنی جو شخص قرآن مجید پڑھ کر اس کا علم حاصل کرکے طلب دنیا اوردیگر لا یعنی علوم بالخصوص لغو قسم کے شعر وسخن سے بے پرواہ نہ ہوجائے۔
تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (معالم السنن 138/2)
 مقصد یہ ہے کہ قاری قرآن اور عالم دین کو چاہیے کہ اس شرف کے حاصل ہو جانے پر دنیا کا مال ودولت جمع کرنے اور لغو مشاغل سے بالاتر رہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1337]

Sunan Ibn Majah Hadith 1337 in Urdu