🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
176. . باب في حسن الصوت بالقرآن
باب: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1339
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ الَّذِي إِذَا سَمِعْتُمُوهُ يَقْرَأُ حَسِبْتُمُوهُ يَخْشَى اللَّهَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2646، ومصباح الزجاجة: 471) (صحیح)» ‏‏‏‏ (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس حدیث کی سند میں دو راوی عبد اللہ بن جعفر اور ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 475، بتحقیق عوض الشہری)
وضاحت: ۱؎: یعنی درد انگیز آواز سے پڑھتا ہو، اور اس پر رقت طاری ہو جاتی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن مجمع: ضعيف
وللحديث شاهد مرسل ضعيف عند ابن المبارك في الزهد (114)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥إبراهيم بن إسماعيل الأنصاري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن إسماعيل الأنصاري ← محمد بن مسلم القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن جعفر السعدي، أبو جعفر
Newعبد الله بن جعفر السعدي ← إبراهيم بن إسماعيل الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥بشر بن معاذ العقدي، أبو سهل
Newبشر بن معاذ العقدي ← عبد الله بن جعفر السعدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1339
إذا سمعتموه يقرأ حسبتموه يخشى الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1339 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1339
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (التعلیق الرغیب: 215/2، وصفة الصلاة)
 جس طرح حسن صوت تلاوت کی زینت ہے۔
اسی طرح یہ چیز بھی تلاوت کے حسن میں اضافہ کرتی ہے۔
کہ پڑھنے والے کے انداز سے محسوس ہو کہ وہ قرآن کا اثر قبول کررہا ہے۔
اور اس کے دل میں اللہ کا خوف موجود ہے۔

(2)
یہ مقصد اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب تلاوت کرنے والا قرآن کے معنی ومطالب بھی سمجھتا ہو۔
لہٰذا قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر سیکھنے اور اس پر عمل کرنے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1339]