🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
176. . باب في حسن الصوت بالقرآن
باب: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقِيلَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ:" لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں داؤد (علیہ السلام) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1341]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنائی دی۔ فرمایا: یہ کون ہے؟ عرض کی گئی: عبداللہ بن قیس ہیں۔ فرمایا: اسے تو آلِ داؤد علیہ السلام کا ایک ساز مل گیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15119، ومصباح الزجاجة: 473)، وقد أخر جہ: سنن النسائی/الافتتاح 83 (1020)، مسند احمد (2/354، 369، 450) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «مزامیر» : جمع ہے «مزمار» کی، «مزمار» کہتے ہیں ستار کو، یا بجانے کے آلہ کو، یہاں «مزمار» سے مراد خوش الحانی ہے، اور داود علیہ السلام بہت خوش الحان تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1020
أوتي مزمارا من مزامير آل داود
سنن ابن ماجه
1341
أوتي هذا من مزامير آل داود
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1341 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1341
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت ابو موسیٰ اشعری کے نام سے معروف ہیں خوش آواز تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت کی تحسین فرمائی۔

(2)
اچھی آواز اللہ کی ایک نعمت ہے۔
اس سے نیکی کے کاموں میں فائدہ اٹھانا قابل تعریف ہے۔

(3)
ساز سے مراد خوش کن آواز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1341]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1020
خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: انہیں آل داود کے لحن (سُر) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1020]
1020۔ اردو حاشیہ:
➊ حضرت داود علیہ السلام آواز و قرأت کی خوب صورتی میں ضرب المثل بن چکے ہیں۔ قرآن مجید میں ان کی قرأت کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کی قرأت کا ذکر ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خوب صورت آواز کو حضرت داود علیہ السلام کی آوازکے ساتھ تشبیہ دی۔ اور اس کے لیے (مزمار) کا لفظ استعمال فرمایا۔ «مزمار» کے معنیٰ بانسری ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بانسری کے ساتھ پڑھتے تھے بلکہ یہ تو صرف تشبیہ ہے کہ آواز اس طرح پرسوز اور پرکشش تھی جیسے بانسری ہو۔
➋ اچھی آواز کی تعریف کرنا درست ہے۔
➌ اچھی آواز والے قاری کی قرأت سننا مستحسن امر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1020]

Sunan Ibn Majah Hadith 1341 in Urdu