🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
180. . باب : ما جاء في الدعاء إذا قام الرجل من الليل
باب: رات میں آدمی جاگے تو کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1356
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : مَاذَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ بِهِ قِيَامَ اللَّيْلِ؟، قَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ،" كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمُقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1356]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 121 (766)، سنن النسائی/قیام اللیل 9 (1618)، (تحفة الأشراف: 16166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/143) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عاصم بن حميد السكوني
Newعاصم بن حميد السكوني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صدوق حسن الحديث
👤←👥أزهر بن سعيد الحرازي
Newأزهر بن سعيد الحرازي ← عاصم بن حميد السكوني
صدوق حسن الحديث
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← أزهر بن سعيد الحرازي
صدوق له أوهام
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← معاوية بن صالح الحضرمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1618
يكبر عشرا ويحمد عشرا ويسبح عشرا ويهلل عشرا ويستغفر عشرا ويقول اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ بالله من ضيق المقام يوم القيامة
سنن أبي داود
766
كبر عشرا وحمد الله عشرا وسبح عشرا وهلل عشرا واستغفر عشرا وقال اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني ويتعوذ من ضيق المقام يوم القيامة
سنن أبي داود
5085
كبر عشرا وحمد عشرا وقال سبحان الله وبحمده عشرا وقال سبحان الملك القدوس عشرا واستغفر عشرا وهلل عشرا ثم قال اللهم إني أعوذ بك من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة عشرا ثم يفتتح الصلاة
سنن ابن ماجه
1356
اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني ويتعوذ من ضيق المقام يوم القيامة
سنن النسائى الصغرى
5538
اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني ويتعوذ من ضيق المقام يوم القيامة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1356 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1356
اردو حاشہ:
فائدہ:
 (ضِيقِ الْمُقَامِ)
سے پناہ کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! جب قیامت کے دن تیرے سامنے پیش ہوکر زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہے۔
اس و قت مشکل نہ بنے آسانی سے حساب کتاب سے فراغت ہوجائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1356]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1618
قیام اللیل کس دعا سے شروع کی جائے؟
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے قیام کی شروعات کس سے کرتے تھے؟ تو وہ کہنے لگیں، تو نے مجھ سے ایک ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر» ، دس بار «الحمد للہ» ، دس بار «سبحان اللہ» اور دس بار «لا الٰہ الا اللہ» اور دس بار «استغفر اللہ» کہتے تھے، اور «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ باللہ من ضيق المقام يوم القيامة» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے راہ دکھا، مجھے رزق عطا فرما، اور میری حفاظت فرما، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1618]
1618۔ اردو حاشیہ: قیام اللیل کے آغاز سے مراد یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے اٹھتے تو نماز تہجد سے پہلے یہ دعائیں پڑھا کرتے تھے۔ ان (گزشتہ اور آئندہ) دعاؤں میں بہت سی ایسی دعائیں ہیں جن کو ظاہر آپ کو ضروری نہیں مگر آپ نے اپنی امت کی تعلیم کے لیے وہ دعائیں پڑھیں کیونکہ امتیوں کو تو بہرصورت ان کی ضرورت ہے۔ کہا: جا سکتا ہے کہ آپ کی دعائیں دراصل آپ کی امت کے لیے ہیں۔ (علاوہ ان دعاؤں کے جو آپ کے ساتھ مخصوص ہیں۔)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1618]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5538
نہ سنی جانے والی دعا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» اے اللہ! میں اس علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مفید اور نفع بخش نہ ہو، اس دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو، اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سعید نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی بلکہ اپنے بھائی سے س [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5538]
اردو حاشہ:
(1) امام رحمہ اللہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ سند منقطع ہے تاہم روایت صحیح ہے کیونکہ اگلی روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ واللہ أعلم۔
(2) جو قبول نہ ہو مقصد یہ ہے کہ یا اللہ مجھے ان خرابیوں سے بچا جن کی بنا پر دعا قبول نہیں ہوتی، مثلا: رزق حرام، عدم خلوص، ناجائز دعا وغیرہ۔ (باقی تفصیلات دیکھیے حدیث: حدیث نمبر: 5444)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5538]