سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
181. باب : ما جاء في كم يصلي بالليل
باب: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
حدیث نمبر: 1361
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَا:" ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، مِنْهَا ثَمَانٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ".
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا: تیرہ رکعت، ان میں آٹھ رکعت (تہجد کی ہوتی) اور تین رکعت وتر ہوتی، اور دو رکعت فجر کے بعد کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1361]
حضرت عامر بن شراحیل شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز) تیرہ رکعت ہوتی تھی۔ ان میں آٹھ رکعتیں (بطور نوافل) ہوتی تھیں اور آپ تین وتر پڑھتے تھے اور دو رکعتیں فجر طلوع ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5770، ومصباح الزجاجة: 476) (صحیح)» (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابواسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1361
| ثلاث عشرة ركعة منها ثمان ويوتر بثلاث وركعتين بعد الفجر |
Sunan Ibn Majah Hadith 1361 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي