سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
203. . باب : ما جاء في صلاة النافلة حيث تصلى المكتوبة
باب: فرض نماز پڑھنے کی جگہ پر نفل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1427
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ؟" يَعْنِي: السُّبْحَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں کا کوئی اتنا عاجز و مجبور ہے کہ جب (فرض) نماز پڑھ چکے تو نفل کے لیے آگے بڑھ جائے، یا پیچھے ہٹ جائے، یا دائیں، بائیں ہو جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأاذان 57 (848) تعلیقاً، سنن ابی داود/الصلاة 194 (1006)، (تحفة الأشراف: 12179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/425) (صحیح)» (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف، اور ابراہیم بن اسماعیل مجہول الحال ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 629، 922، 1034)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1006)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1006)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥إسماعيل بن إبراهيم الشيباني إسماعيل بن إبراهيم الشيباني ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحجاج بن عبيد الحجاج بن عبيد ← إسماعيل بن إبراهيم الشيباني | مجهول | |
👤←👥الليث بن أبي سليم القرشي، أبو بكر، أبو بكير الليث بن أبي سليم القرشي ← الحجاج بن عبيد | ضعيف الحديث | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← الليث بن أبي سليم القرشي | ثقة حجة حافظ | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن علية الأسدي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1006
| يتقدم أو يتأخر أو عن يمينه أو عن شماله |
سنن ابن ماجه |
1427
| يتقدم أو يتأخر أو عن يمينه أو عن شماله يعني السبحة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1427 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1427
اردو حاشہ:
فائدہ:
نماز کے اس ادب سے اکثر لوگ غافل ہیں۔
فرض نماز کے بعد سنتیں اور نفل اسی جگہ نہیں پڑھنے چاہیں۔
یا تو جگہ بدل لے یا تو اپنے ساتھی سے کوئی بات چیت کرلے۔
مثلاً سلام کرکے اس کی خیریت دریافت کرلے۔
یا اذکار مسنونہ کرنے کے بعد اسی جگہ پڑھ لے۔
یہ مضمون صحیح احادیث میں بھی بیان ہوا ہے۔
اس لئے بعض افراد کے نزدیک یہ روایت بھی صحیح ہے۔
فائدہ:
نماز کے اس ادب سے اکثر لوگ غافل ہیں۔
فرض نماز کے بعد سنتیں اور نفل اسی جگہ نہیں پڑھنے چاہیں۔
یا تو جگہ بدل لے یا تو اپنے ساتھی سے کوئی بات چیت کرلے۔
مثلاً سلام کرکے اس کی خیریت دریافت کرلے۔
یا اذکار مسنونہ کرنے کے بعد اسی جگہ پڑھ لے۔
یہ مضمون صحیح احادیث میں بھی بیان ہوا ہے۔
اس لئے بعض افراد کے نزدیک یہ روایت بھی صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1427]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1006
جس جگہ پر فرض نماز پڑھی ہو وہاں نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے۔“ عبدالوارث کی روایت میں ہے: آگے بڑھ جانے سے یا پیچھے ہٹ جانے سے یا دائیں یا بائیں چلے جانے سے۔ حماد کی روایت میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے یعنی نفل نماز پڑھنے کے لیے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1006]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص عاجز ہے۔“ عبدالوارث کی روایت میں ہے: آگے بڑھ جانے سے یا پیچھے ہٹ جانے سے یا دائیں یا بائیں چلے جانے سے۔ حماد کی روایت میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے یعنی نفل نماز پڑھنے کے لیے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1006]
1006۔ اردو حاشیہ:
مقصد یہ ہے کہ جس جگہ فرض پڑھے ہوں نفل پڑھنے کے لئے وہاں سے کسی قدر جگہ بدل لینی چاہیے۔
مقصد یہ ہے کہ جس جگہ فرض پڑھے ہوں نفل پڑھنے کے لئے وہاں سے کسی قدر جگہ بدل لینی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1006]
إسماعيل بن إبراهيم الشيباني ← أبو هريرة الدوسي