🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : ما جاء في غسل الرجل امرأته وغسل المرأة زوجها
باب: شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الذَّهَبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ، مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1464]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ خیال آ جاتا جو بعد میں آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ازواج مطہرات ہی غسل دیتیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16182، ومصباح الزجاجة: 519)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 32 (3141)، مسند احمد (6/267) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن منتقی ابن الجارو د، صحیح ابن حبان اور مستدرک الحاکم میں تحدیث کی صراحت ہے، دفاع عن الحدیث النبوی 53-54، والإرواء: 700)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ بیوی محرم راز ہوتی ہے، اور اس سے ستر بھی نہیں ہوتا، پس اس کا غسل دینا شوہر کو بہ نسبت دوسروں کے اولیٰ اور بہتر ہے، اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، اور کسی صحابی نے اس پر نکیر نہیں کی، اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے، نیز ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ دے سکنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ افسوس کا اظہار نہ کرتیں، جیسا کہ امام بیہقی فرماتے ہیں: «فتلهفت على ذلك ولا يتلهف إلا على ما يجوز» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عباد بن عبد الله القرشي
Newعباد بن عبد الله القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يحيى بن عباد الزبيري
Newيحيى بن عباد الزبيري ← عباد بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← يحيى بن عباد الزبيري
صدوق مدلس
👤←👥أحمد بن خالد الوهبي، أبو سعيد
Newأحمد بن خالد الوهبي ← ابن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← أحمد بن خالد الوهبي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1464
لو استقبلت من الأمر ما استدبرت ما غسل النبي إلا نساؤه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1464 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1464
اردو حاشہ:
فائدہ:
خاوند اور بیوی کا باہمی تعلق ایسا ہے۔
جو کسی اور کا نہیں۔
اور ان کا ایک دوسرے سے جسم کے کسی حصہ کا پردہ بھی نہیں۔
اس لئے سب سے زیادہ انہی کا حق ہے۔
کہ ایک دوسرے کوغسل دیں۔
اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے۔
جو کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد خاوند بیوی ایک دوسرے کا نہ چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1464]

Sunan Ibn Majah Hadith 1464 in Urdu