🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : ما جاء في الصلاة على الطفل
باب: بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1508
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ (پیدائش کے وقت) روئے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1508]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ (پیدائش کے وقت) روئے تو (اس کے فوت ہونے پر) اس کا جنازہ پڑھا جائے اور اس کی وراثت تقسیم کی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2708)، و قد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 43 (1032)، سنن الدارمی/الفرائض 47 (3168) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 236)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (1532) وانظر الحديث الآتي (2750)
الربيع بن بدر: متروك
وللحديث شواهد كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥الربيع بن بدر التميمي، أبو العلاء
Newالربيع بن بدر التميمي ← محمد بن مسلم القرشي
متروك الحديث
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← الربيع بن بدر التميمي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2750
إذا استهل الصبي صلي عليه وورث
سنن ابن ماجه
1508
إذا استهل الصبي صلي عليه وورث
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1508 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1508
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
مذکورہ روایت میں دو مسئلے بیان ہوئے ہیں۔
ایک بچے کی نماز جنازہ کا، جس کا ذکر گزشتہ روایت میں بھی ہے۔
اور ہمارے فاضل محقق نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
دوسرا مسئلہ بچے کے وارث ہونے کا ہے۔
یہ مسئلہ سنن ابن ماجہ کی ایک دوسری روایت 2751 میں بھی مروی ہے۔
جسے ہمارے فاضل محقق نے سنداً حسن قرار دیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر روایات کی رو سے قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الصحیحة، رقم: 153، 152)

(2)
پیدائش کے وقت بچے کا رونا اس کے زندہ پیدا ہونے کی علامت ہے۔
اس لئے جب وہ زندہ پیدا ہونے کے تھوڑی دیر بعد فوت ہو جائے۔
تو اس کا حکم وہی ہوگا جو طویل عرصہ تک زندہ رہ کرفوت ہونے والے کا ہوگا۔
گزشتہ حدیث کے فوائد ومیں بیان ہوچکا ہے۔
کہ جنازہ نا تمام بچے کا بھی پڑھا جائے گا۔
البتہ وراثت کےلئے شرط ہے کہ بچہ زندہ پیدا ہو یعنی مردہ پیدا ہونے والا بچہ وارث نہیں ہوگا۔
اس لئے اس کی وراثت بھی تقسیم نہیں ہوگی۔
اگرچہ تخلیق مکمل ہونے پر پیدا ہواہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1508]

Sunan Ibn Majah Hadith 1508 in Urdu