پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : ما جاء في الصلاة على ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكر وفاته
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1511
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا، وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ، وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: ”جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1511]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جنازہ پڑھا اور فرمایا: ”اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی مقرر ہے اور اگر وہ زندہ رہتا تو نبی صدیق ہوتا اور اگر وہ زندہ رہتا تو اس کے ماموں قبطی آزاد ہو جاتے، پھر کسی قبطی کو غلام نہ بنایا جاتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6482، ومصباح الزجاجة: 538) (صحیح)» (اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ متروک الحدیث ہے، لیکن «عتق» کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث عبد اللہ بن ابی اوفی سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 235)
وضاحت: ۱؎: قبطی: ایک مصری قوم ہے، فرعون اسی قوم سے تھا، اور اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ بھی اسی قوم کی تھیں، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی والدہ ماریہ بھی اسی قوم کی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة العتق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أبو شيبة إبراهيم بن عثمان: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
إسناده ضعيف جدًا
أبو شيبة إبراهيم بن عثمان: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1511
| له مرضعا في الجنة لو عاش لكان صديقا نبيا لو عاش لعتقت أخواله القبط وما استرق قبطي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1511 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1511
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کی تحقیق میں لکھتے ہیں۔
یہ جملہ اگر ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے مرفوع حدیث کے طور پر ثابت نہیں۔
البتہ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے قول کے طور پر صحیح ہے۔
اور مزید لکھتے ہیں کہ اس جملے (ولوعاش.......وما استرق قبطي)
کے سوا صحیح ہے۔
نیز دکتور بشار عواد نے بھی مذکورہ روایت کے آخری جملے (لعتقت اخوانه)
کے سوا صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (سلسلة الاحادیث الضعیفة والموضوعة: 388، 387/1، حدیث: 220 وصحیح سنن ابن ماجة، حدیث: 1236، وسنن ابن ماجة للدکتور بشار عواد، حدیث: 1511)
(2)
حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب فوت ہوئے تو ان کی دودھ پینے کی عمر تھی۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ شرف بخشا کہ انھوں نے جنت کی حوروں کا دودھ پیا۔
ممکن ہے کہ یہ شرف حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے مخصوص ہو اور ممکن ہے کہ اہل ایمان کے جو بچے شیر خوار فوت ہو جاتے ہیں۔
ان سب کے لئے ایسا ہو۔
بہرحال یہ غیبی امور ہیں۔
اس لئے حقیقت حال سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کی تحقیق میں لکھتے ہیں۔
یہ جملہ اگر ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے مرفوع حدیث کے طور پر ثابت نہیں۔
البتہ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے قول کے طور پر صحیح ہے۔
اور مزید لکھتے ہیں کہ اس جملے (ولوعاش.......وما استرق قبطي)
کے سوا صحیح ہے۔
نیز دکتور بشار عواد نے بھی مذکورہ روایت کے آخری جملے (لعتقت اخوانه)
کے سوا صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (سلسلة الاحادیث الضعیفة والموضوعة: 388، 387/1، حدیث: 220 وصحیح سنن ابن ماجة، حدیث: 1236، وسنن ابن ماجة للدکتور بشار عواد، حدیث: 1511)
(2)
حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب فوت ہوئے تو ان کی دودھ پینے کی عمر تھی۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ شرف بخشا کہ انھوں نے جنت کی حوروں کا دودھ پیا۔
ممکن ہے کہ یہ شرف حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے مخصوص ہو اور ممکن ہے کہ اہل ایمان کے جو بچے شیر خوار فوت ہو جاتے ہیں۔
ان سب کے لئے ایسا ہو۔
بہرحال یہ غیبی امور ہیں۔
اس لئے حقیقت حال سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1511]
Sunan Ibn Majah Hadith 1511 in Urdu
مقسم بن بجرة ← عبد الله بن العباس القرشي