پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : ما جاء في الصلاة على ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكر وفاته
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ خَدِيجَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَرَّتْ لُبَيْنَةُ الْقَاسِمِ فَلَوْ كَانَ اللَّهُ أَبْقَاهُ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِضَاعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ تَمَامَ رَضَاعِهِ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَتْ: لَوْ أَعْلَمُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهَوَّنَ عَلَيَّ أَمْرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ تَعَالَى فَأَسْمَعَكِ صَوْتَهُ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ أُصَدِّقُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہو گیا، تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہو گیا ہے، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہو جاتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے“ تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہو گیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے“، خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں: (نہیں) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1512]
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند قاسم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! (میری چھاتیوں میں) قاسم کا دودھ بہت اتر آیا ہے، کاش اللہ تعالیٰ اسے اتنی زندگی دیتا کہ دودھ پلانے کی مدت پوری ہو جاتی“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دودھ پینے کی مدت جنت میں پوری ہوگی۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر مجھے یہ بات معلوم ہو جائے تو اس پر میرا غم کچھ ہلکا ہو جائے۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کروں اور وہ تجھے اس کی آواز سنا دے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کی بات پر یقین رکھتی ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3413، ومصباح الزجاجة: 539) (ضعیف جدا)» (اس میں ہشام بن أبی الولید متروک راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أبو المقدام هشام بن زياد: متروك
وأمه: لا تعرف (تقريب: 8823)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
إسناده ضعيف جدًا
أبو المقدام هشام بن زياد: متروك
وأمه: لا تعرف (تقريب: 8823)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1512
| تمام رضاعه في الجنة إن شئت دعوت الله فأسمعك صوته |
Sunan Ibn Majah Hadith 1512 in Urdu
فاطمة بنت الحسين الهاشمية ← الحسين بن علي السبط