پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب : ما جاء في استحباب اللحد
باب: بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1554]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّحْدُ» (بغلی قبر) ہمارے لیے ہے اور «الشَّقُّ» (صندوقی قبر) ہمارے سوا دوسروں کے لیے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 65 (3208)، سنن الترمذی/الجنائز 53 (1045)، سنن النسائی/الجنائز85 (2011)، (تحفة الأشراف: 5542) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 585)»
وضاحت: ۱؎: بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں اور ضرح اور شق صندوقی قبر کو جو بہت مشہور ہے، اس حدیث سے لحد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس وجہ سے کہ اس میں مردے پر مٹی گرانی نہیں ہوتی، جو ادب واحترام کے خلاف ہے، نیز اس سے صندوقی قبر کی ممانعت مقصود نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3208) ترمذي (1045) نسائي (2011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3208) ترمذي (1045) نسائي (2011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2011
| اللحد لنا والشق لغيرنا |
جامع الترمذي |
1045
| اللحد لنا والشق لغيرنا |
سنن أبي داود |
3208
| اللحد لنا والشق لغيرنا |
سنن ابن ماجه |
1554
| اللحد لنا والشق لغيرنا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1554 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1554
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔
کہ لحد بنانا مستحب ہے۔
کیونکہ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے اتفاق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لحد ہی کھو دی گئی تھی۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، بشرح النووی، کتاب الجنائز، باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت: 49/48/7، حدیث: 966)
لہٰذا جہاں لحد (بغلی قبر بن سکتی ہو وہاں لحد بنانا مستحب اورافضل ہے۔
البتہ شق (صندوقی قبر)
بنانا بھی جائز ہے۔
جیسا کہ آئندہ آنے والی احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
واللہ أعلم۔
(2)
لحد یعنی بغلی قبر سے مراد یہ ہے کہ پہلے گڑھا کھودا جائے پھر اس میں ایک طرف میت کے لئے جگہ بنا کر اس میں میت کو رکھا جائے۔
اور شق کا مطلب یہ ہے کہ بڑا گڑھا کھود کر اس کے درمیان میں میت کےلئے نسبتاً چھوٹا گڑھا کھوداجائے۔
(3)
دونوں طرح قبر بنانا جائز ہے۔
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانوں میں دونوں طریقوں پر عمل ہوتا تھا۔
جیسے کہ آئندہ حدیث سے ظاہر ہے۔
(4)
شق (صندوقی قبر)
دوسروں کے لئے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے لئے جائز نہیں غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں میں زیادہ شق (صندوقی قبر)
کا رواج ہے۔
اور مسلمان زیادہ تر لحد (بغلی قبر)
بناتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔
کہ لحد بنانا مستحب ہے۔
کیونکہ صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کے اتفاق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لحد ہی کھو دی گئی تھی۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، بشرح النووی، کتاب الجنائز، باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت: 49/48/7، حدیث: 966)
لہٰذا جہاں لحد (بغلی قبر بن سکتی ہو وہاں لحد بنانا مستحب اورافضل ہے۔
البتہ شق (صندوقی قبر)
بنانا بھی جائز ہے۔
جیسا کہ آئندہ آنے والی احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
واللہ أعلم۔
(2)
لحد یعنی بغلی قبر سے مراد یہ ہے کہ پہلے گڑھا کھودا جائے پھر اس میں ایک طرف میت کے لئے جگہ بنا کر اس میں میت کو رکھا جائے۔
اور شق کا مطلب یہ ہے کہ بڑا گڑھا کھود کر اس کے درمیان میں میت کےلئے نسبتاً چھوٹا گڑھا کھوداجائے۔
(3)
دونوں طرح قبر بنانا جائز ہے۔
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانوں میں دونوں طریقوں پر عمل ہوتا تھا۔
جیسے کہ آئندہ حدیث سے ظاہر ہے۔
(4)
شق (صندوقی قبر)
دوسروں کے لئے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے لئے جائز نہیں غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلموں میں زیادہ شق (صندوقی قبر)
کا رواج ہے۔
اور مسلمان زیادہ تر لحد (بغلی قبر)
بناتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1554]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2011
بغلی اور صندوقی قبر بنانے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2011]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2011]
اردو حاشہ:
(1) یہ روایت اگرچہ اس سند سے ضعیف ہے لیکن دیگر شواہد کی وجہ سے بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے اور یہی بات درست ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے جامع ترمذی میں ان شواہد کی تصریح فرمائی ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، حدیث: 1045)
(2) ”دوسروں کے لیے“ مسند احمد میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے اور ”شق اہل کتاب کے لیے ہے۔“ (مسسند أحمد: 363/4) لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کے لیے شق جائز نہیں کیونکہ بعض علاقوں میں لحد ممکن ہی نہیں، شق ہی بنانی پڑتی ہے۔ ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب بھی یہ ہو کہ بقیع الغرقد (جنت البقیع) کی زمین سخت ہے، لحد بن سکتی ہے، لہٰذا ہمارے لیے لحد بہتر ہے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے لیے بھی دونوں آدمیوں (لحد اور شق والے) کو پیغام بھیجا گیا تھا۔ اتفاقاً لحد بنانے والے صحابی پہلے آگئے، اس لیے باتفاق صحابہ لحد بنائی گئی۔ (سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1557) ممکن ہے اہل کتاب کے ہاں شق کا رواج ہو۔ آپ نے امتیاز کے لیے مسلمانوں کو لحد بنانے کا مشورہ دیا ہو۔ (نیز دیکھیے، فوائد حدیث: 2009،2010)
(1) یہ روایت اگرچہ اس سند سے ضعیف ہے لیکن دیگر شواہد کی وجہ سے بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے اور یہی بات درست ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے جامع ترمذی میں ان شواہد کی تصریح فرمائی ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، حدیث: 1045)
(2) ”دوسروں کے لیے“ مسند احمد میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے اور ”شق اہل کتاب کے لیے ہے۔“ (مسسند أحمد: 363/4) لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کے لیے شق جائز نہیں کیونکہ بعض علاقوں میں لحد ممکن ہی نہیں، شق ہی بنانی پڑتی ہے۔ ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب بھی یہ ہو کہ بقیع الغرقد (جنت البقیع) کی زمین سخت ہے، لحد بن سکتی ہے، لہٰذا ہمارے لیے لحد بہتر ہے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے لیے بھی دونوں آدمیوں (لحد اور شق والے) کو پیغام بھیجا گیا تھا۔ اتفاقاً لحد بنانے والے صحابی پہلے آگئے، اس لیے باتفاق صحابہ لحد بنائی گئی۔ (سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1557) ممکن ہے اہل کتاب کے ہاں شق کا رواج ہو۔ آپ نے امتیاز کے لیے مسلمانوں کو لحد بنانے کا مشورہ دیا ہو۔ (نیز دیکھیے، فوائد حدیث: 2009،2010)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2011]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3208
قبر میں لحد بنانے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لحد (بغلی قبر) ہمارے لیے ہے، اور شق (صندوقی قبر) دوسروں کے لیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3208]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لحد (بغلی قبر) ہمارے لیے ہے، اور شق (صندوقی قبر) دوسروں کے لیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3208]
فوائد ومسائل:
1۔
قبر کا بڑا گڑھا کھود کر اس کے قبلہ رخ پہلو میں اندر کی طرف ایک گڑھا بنانا لحد کہلاتا ہے۔
اور اگرسیدھا نیچے کی سطح میں بنایا جائے تو اسے شق کہتے ہیں۔
2۔
زمین سخت ہو تو لحد بنانا مستحب ہے ورنہ شق بھی جائز ہے۔
1۔
قبر کا بڑا گڑھا کھود کر اس کے قبلہ رخ پہلو میں اندر کی طرف ایک گڑھا بنانا لحد کہلاتا ہے۔
اور اگرسیدھا نیچے کی سطح میں بنایا جائے تو اسے شق کہتے ہیں۔
2۔
زمین سخت ہو تو لحد بنانا مستحب ہے ورنہ شق بھی جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3208]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1045
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد ”بغلی ہمارے لیے ہے اور صندوقی اوروں کے لیے“ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1045]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1045]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اہل کتاب کے لیے ہے،
مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ «الَّلحْدُ لَنَا» کا مطلب ہے «اللحد لِيْ» یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے یا «الَّلحْدُ لَنَا» کا مطلب «الَّلحْدُ اِخْتِيَارُنَا» ہے یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ صندوقی قبر مسلمانوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے و الا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اہل کتاب کے لیے ہے،
مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ «الَّلحْدُ لَنَا» کا مطلب ہے «اللحد لِيْ» یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے یا «الَّلحْدُ لَنَا» کا مطلب «الَّلحْدُ اِخْتِيَارُنَا» ہے یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ صندوقی قبر مسلمانوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے و الا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1045]
Sunan Ibn Majah Hadith 1554 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي