یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : ما جاء في حفر القبر
باب: قبر کھودنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1559
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: جِئْتُ لَيْلَةً أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ قِرَاءَتُهُ عَالِيَةٌ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مُرَاءٍ، قَالَ: فَمَاتَ بِالْمَدِينَةِ، فَفَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ فَحَمَلُوا نَعْشَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْفُقُوا بِهِ رَفَقَ اللَّهُ بِهِ، إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ"، قَالَ: وَحَفَرَ حُفْرَتَهُ، فَقَالَ:" أَوْسِعُوا لَهُ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ"، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" أَجَلْ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات آیا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کیا کرتا تھا، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ نرمی کرو“، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی کرے“، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1559]
حضرت ادرع سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرا داری کی نیت سے حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی بہت بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ شخص ریاکار ہے۔“ (بعد میں) جب مدینہ میں وہ شخص فوت ہوا اور صحابہ اس کو تیار کرنے (غسل اور کفن وغیرہ) سے فارغ ہوئے اور اس کی چارپائی اٹھائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے نرمی کرو، اللہ تعالیٰ اس پر نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا۔“ راوی کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر تیار کروائی تو فرمایا: ”اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی فرمائے۔“ ایک صحابی نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کو اس (کی وفات) کا بہت غم ہوا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 81، ومصباح الزجاجة: 557) (ضعیف)» (موسیٰ بن عبیدة ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف (الإصابة 26/1 ت 63)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف (الإصابة 26/1 ت 63)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الأدرع السلمي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد الأنصاري سعيد بن أبي سعيد الأنصاري ← الأدرع السلمي | مجهول | |
👤←👥موسى بن عبيدة الربذي، أبو عبد العزيز موسى بن عبيدة الربذي ← سعيد بن أبي سعيد الأنصاري | منكر الحديث | |
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين زيد بن الحباب التميمي ← موسى بن عبيدة الربذي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← زيد بن الحباب التميمي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1559
| ارفقوا به رفق الله به إنه كان يحب الله ورسوله |
Sunan Ibn Majah Hadith 1559 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد الأنصاري ← الأدرع السلمي