🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. بَابٌ في النَّهْيِ عَنِ النِّيَاحَةِ
باب: نوحہ (میت پر چلا کر رونا) منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1581
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ مُعَانِقٍ أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ، قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ".
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نوحہ (ماتم) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ (ماتم) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول (ڈامر) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1581]
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نوحہ (بین) جاہلیت کا رواج ہے۔ نوحہ کرنے والی اگر توبہ کیے بغیر مر گئی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول کے کپڑے اور آگ کے شعلے کی قمیص تیار کرے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12160، ومصباح الزجاجة: 568)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز10 (924)، مسند احمد (5/342) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م بلفظ ودرع من جرب
قال الشيخ زبير على زئي:حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو مالك الأشعري، أبو مالكصحابي
👤←👥عبد الله بن معانق الأشعري، أبو معانق
Newعبد الله بن معانق الأشعري ← أبو مالك الأشعري
مقبول
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن معانق الأشعري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ جليل
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← محمد بن يحيى الذهلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1581
النياحة من أمر الجاهلية النائحة إذا ماتت ولم تتب قطع الله لها ثيابا من قطران ودرعا من لهب النار
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1581 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1581
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جاہلیت سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے جب کسی کام کو جاہلیت کا کام قراردیا جائے۔
تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کام مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا۔
اسے کافر ہی کرتے ہیں اور یہ انھی لائق ہے۔

(2)
کافروں کے رسم ورواج اختیار کرنے سے اور ا ن کی نقل کرنے سے اجتناب اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔
زندگی کے ہر معاملے میں یہ اُصول مسلمانوں کے پیش نظر رہنا چاہیے۔

(3)
توبہ کرنے سے کبیرہ گناہ معاف ہی ہوجاتے ہیں۔

(4)
نوحہ کرنے والی کو یہ عذاب قیامت کے دن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہوگا۔
جیسے آئندہ حدیث سے واضح ہے ممکن ہے جہنم میں بھی ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1581]

Sunan Ibn Majah Hadith 1581 in Urdu