علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب : ما جاء في البكاء على الميت
باب: میت پر رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1591
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِنِسَاءِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ هَلْكَاهُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ"، فَجَاءَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ حَمْزَةَ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَيْحَهُنَّ مَا انْقَلَبْنَ بَعْدُ مُرُوهُنَّ، فَلْيَنْقَلِبْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قبیلہ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں“، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ”ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1591]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ جنگِ احد میں شہید ہونے والے اپنے اقارب پر رو رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے والیاں کوئی نہیں۔“ (یہ سن کر) انصار کی خواتین آکر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: ”افسوس! یہ ابھی واپس نہیں گئیں۔ انہیں حکم دو کہ واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7491، ومصباح الزجاجة: 574)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/40، 84، 92) (حسن صحیح) (اسامہ بن زید ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد أسامة بن زيد الليثي ← نافع مولى ابن عمر | صدوق يهم كثيرا | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← أسامة بن زيد الليثي | ثقة حافظ | |
👤←👥هارون بن سعيد السعدي، أبو جعفر هارون بن سعيد السعدي ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة فاضل |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1591 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1591
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ احد میں شہید ہوگئے۔
ان کے گھرانے کی خواتین ابھی ہجرت کرکے مدینے نہیں آئیں تھیں۔
اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار ترحم کے لئے فرمایا حمزہ پر رونے والا کوئی نہیں اس کا مقصد رونے والیوں کے عمل کی تعریف کرنا نہیں تھا بلکہ ان کی بے کسی کا اظہار تھا۔
کہ اس موقع پر ان کے اہل خانہ بھی موجود نہیں ہیں۔
جن کو فطری طور پر سب سے زیادہ صدمہ ہوتا ہے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشاروں پر فدا ہونے والے تھے۔
یہ ان کی محبت کا کمال تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات فرمائی جس سے انھیں محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں۔
کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے رویا جائے۔
تو ان کی خواتین فوراً تیار ہوکر آ گیئں۔
کیونکہ ان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دلگیر ہونا اپنے غم وحزن سے زیادہ تکلیف دہ تھا اس لئے انھوں نے اس غم کی وجہ سے آواز سے رونا شروع کردیا۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ میرا مقصد یہ نہیں تھا۔
اس لئے ان خواتین کو واپس چلے جانے کا حکم دے دیا۔
(4)
میت کے گھر جمع ہوکر رونا پیٹنا اور نوحہ کرنا منع ہے۔
بلکہ نوحہ کے بغیر بھی میت والوں کے گھر جمع ہونا منع ہے۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث نمبر: 1612)
جو شخص تعزیت کے لئے آئے تو وہ شخص تعزیت کرکے چلا جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ احد میں شہید ہوگئے۔
ان کے گھرانے کی خواتین ابھی ہجرت کرکے مدینے نہیں آئیں تھیں۔
اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار ترحم کے لئے فرمایا حمزہ پر رونے والا کوئی نہیں اس کا مقصد رونے والیوں کے عمل کی تعریف کرنا نہیں تھا بلکہ ان کی بے کسی کا اظہار تھا۔
کہ اس موقع پر ان کے اہل خانہ بھی موجود نہیں ہیں۔
جن کو فطری طور پر سب سے زیادہ صدمہ ہوتا ہے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشاروں پر فدا ہونے والے تھے۔
یہ ان کی محبت کا کمال تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات فرمائی جس سے انھیں محسوس ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں۔
کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے رویا جائے۔
تو ان کی خواتین فوراً تیار ہوکر آ گیئں۔
کیونکہ ان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دلگیر ہونا اپنے غم وحزن سے زیادہ تکلیف دہ تھا اس لئے انھوں نے اس غم کی وجہ سے آواز سے رونا شروع کردیا۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ میرا مقصد یہ نہیں تھا۔
اس لئے ان خواتین کو واپس چلے جانے کا حکم دے دیا۔
(4)
میت کے گھر جمع ہوکر رونا پیٹنا اور نوحہ کرنا منع ہے۔
بلکہ نوحہ کے بغیر بھی میت والوں کے گھر جمع ہونا منع ہے۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث نمبر: 1612)
جو شخص تعزیت کے لئے آئے تو وہ شخص تعزیت کرکے چلا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1591]
Sunan Ibn Majah Hadith 1591 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي