سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1587
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهَا يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو (روتے) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور (صدمہ کا) زمانہ قریب ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1587]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون کو دیکھا (جو رو رہی تھی) تو اسے بلند آواز سے منع کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! اسے رونے دو، آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، دل کو غم پہنچا ہے اور وقت زیادہ نہیں گزرا (غم تازہ ہے۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 16 (1860)، (تحفة الأشراف: 13475)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/110، 273، 333، 408، 444) (ضعیف)» (کیونکہ اس کی سند میں محمد بن عمرو بن عطاء اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، جیسا کہ بعد والی حدیث کی سند سے واضح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3603)
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے ابھی صدمہ پہنچا ہے اور ایسے وقت میں دل پر اثر بہت ہوتا ہے اور رونا بہت آتا ہے، آدمی مجبور ہو جاتا ہے خصوصاً عورتیں جن کا دل بہت کمزور ہوتا ہے، ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یہ عورت آواز کے ساتھ روئی ہو گی، لیکن بلند آواز سے نہیں، تب بھی عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کیا تاکہ نوحہ کا دروازہ بند کیا جا سکے جو منع ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر روئے اور فرمایا: ” آنکھ آنسو بہاتی ہے، اور دل رنج کرتا ہے، لیکن زبان سے ہم وہ نہیں کہتے جس سے ہمارا رب ناراض ہو “ اور امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی زینب وفات پا گئیں تو عورتیں رونے لگیں، عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کو کوڑے سے مارنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ان کو پیچھے ہٹا دیا، اور فرمایا: ” عمر ٹھہر جاؤ! “ پھر فرمایا: ” عورتو! تم شیطان کی آواز سے بچو … “ اخیر حدیث تک۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1860)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
إسناده ضعيف
نسائي (1860)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
حدیث نمبر: 1587M
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث آئی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1587M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف)» (اس کی سند میں سلمہ بن أزرق مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 1588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ، وَمَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا الصَّبِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوحُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ، قَالَ: حَسِبْتُهُ، قَالَ: كَأَنَّهَا شَنَّةٌ، قَالَ: فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" الرَّحْمَةُ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ فِي بَنِي آدَمَ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: ”جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں“ لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، (راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا:) گویا وہ پرانی مشک ہے (اور اس میں پانی ہل رہا ہے): یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1588]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (حضرت زینب رضی اللہ عنہا) کا ایک بیٹا (حضرت علی بن ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ) حالتِ نزع میں تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ تشریف لائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ (حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو کہہ دیں:) «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» ”اللہ ہی کا ہے جو وہ لے لے اور اسی کا ہے جو وہ دے دے اور اس کے پاس ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہے، اس لیے (حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو چاہیے کہ) وہ صبر کریں اور اللہ سے ثواب کی امید رکھیں۔“ انہوں نے قسم دی (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں۔) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی تھا اور حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی روانہ ہوئے، جب ہم ان کے ہاں پہنچے تو بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا گیا جب کہ بچے کی جان اس کے سینے میں تھی (سانس اکھڑ چکا تھا، معلوم ہوتا تھا آخری وقت ہے) راوی نے غالباً یہ بھی کہا: یوں لگتا تھا کہ جیسے پرانی مشک ہے (جس طرح اس میں پانی حرکت کرتا ہے، اس طرح سانس مشکل سے آ رہا تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشکبار ہو گئے، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے (تعجب سے) کہا: ”اللہ کے رسول! یہ کیا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے ان بندوں پر رحم کرتا ہے جو (دوسروں پر) رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 32 (1284)، المرضی 9 (5655)، القدر 4 (6602)، الأیمان والنذور 9 (6655)، التوحید 2 (7377)، 25 (7448)، صحیح مسلم/الجنائز 6 (923)، سنن ابی داود/الجنائز 28 (3125)، سنن النسائی/الجنائز 22 (1869)، (تحفة الأشراف: 98)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/204، 206، 207) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ رونا اور رنج کرنا خلاف شرع نہیں ہے بلکہ یہ دل کے نرم اور مزاج کے معتدل ہونے کی نشانی ہے، اور جس کسی کو ایسے موقعوں پر رنج بھی نہ ہو اس کا دل اعتدال سے باہر ہے اور وہ سخت دل ہے، اور یہ کچھ تعریف کی بات نہیں ہے کہ فلاں بزرگ اپنے بیٹے کے مرنے سے ہنسنے لگے، واضح رہے کہ عمدہ اور افضل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1589
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي إِمَّا أَبُو بَكْرٍ، وَإِمَّا عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهُ حَقَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، لَوْلَا أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ، وَأَنَّ الْآخِرَ تَابِعٌ لِلْأَوَّلِ، لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا، وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے (وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1589]
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے۔ تعزیت کرنے والے ایک صاحب ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ کی یہ شان ہے کہ آپ اللہ کے حق کی عظمت کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، دل غمگین ہے، (لیکن) ہم وہ الفاظ نہیں کہیں گے جن سے اللہ ناراض ہو، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ یہ (موت) ایک سچا وعدہ ہے (جس سے مفر نہیں) اور اس وعدہ کی چیز (موت) کی وجہ سے سب (عالم آخرت میں) اکٹھے ہونے والے ہیں اور بعد والا بھی پہلے والے کے پیچھے جانے والا ہے تو اے ابراہیم! ہمیں (اب) جتنا غم ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ ہوتا اور ہم تیری وجہ سے یقیناً غمگین ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15772، ومصباح الزجاجة: 572) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں کلام ہے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1732)»
وضاحت: ۱؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ سے آنسوں کا نکلنا اور غمزدہ ہونا صبر کے منافی نہیں بلکہ یہ رحم دلی کی نشانی ہے البتہ نوحہ اور شکوہ کرنا صبر کے منافی اور حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1590
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّهُ قِيلَ لَهَا: قُتِلَ أَخُوكِ، فَقَالَتْ: رَحِمَهُ اللَّهُ، وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قَالُوا: قُتِلَ زَوْجُكِ، قَالَتْ: وَا حُزْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لَشُعْبَةً مَا هِيَ لِشَيْءٍ".
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا: آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، «إنا لله وإنا إليه راجعون» ”ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں“ لوگوں نے بتایا: آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا: ہائے غم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1590]
حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش نے (اپنی پھوپھی) حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان فرمایا کہ (غزوہٴ احد کے موقع پر) انہیں کہا گیا: ”آپ کے بھائی جان (عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ) شہید ہوگئے۔“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ [سورة البقرة: 156] ۔“ (کچھ دیر بعد) لوگوں نے انہیں کہا: ”آپ کے خاوند (مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ) شہید ہوگئے۔“ ان کے منہ سے نکلا: ”ہائے میرا غم!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو خاوند سے جو قلبی تعلق ہوتا ہے وہ اور کسی سے نہیں ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15822ومصباح الزجاجة: 573) (ضعیف)» (اس کی سند میں عبد اللہ بن عمرالعمری ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اﷲ بن عمر العمري قوي عن نافع: ضعيف عن غيره (ضعيف سنن أبي داود: 3721 وتحفة الأقوياء: 188)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
إسناده ضعيف
عبد اﷲ بن عمر العمري قوي عن نافع: ضعيف عن غيره (ضعيف سنن أبي داود: 3721 وتحفة الأقوياء: 188)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
حدیث نمبر: 1591
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِنِسَاءِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ هَلْكَاهُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ"، فَجَاءَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ حَمْزَةَ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَيْحَهُنَّ مَا انْقَلَبْنَ بَعْدُ مُرُوهُنَّ، فَلْيَنْقَلِبْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قبیلہ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں“، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ”ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1591]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ جنگِ احد میں شہید ہونے والے اپنے اقارب پر رو رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے والیاں کوئی نہیں۔“ (یہ سن کر) انصار کی خواتین آکر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا: ”افسوس! یہ ابھی واپس نہیں گئیں۔ انہیں حکم دو کہ واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7491، ومصباح الزجاجة: 574)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/40، 84، 92) (حسن صحیح) (اسامہ بن زید ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1592
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرَاثِي".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1592]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیہ گوئی سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5153، ومصباح الزجاجة: 1575) (ضعیف)» (اس کی سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت پر مرثیہ کہتے یعنی منظوم کلام جس میں اس کے فضائل بیان کرتے اور رنج و غم کی باتیں کرتے، اسلام میں اس کی ممانعت ہوئی، لیکن جاہل اس سے باز نہیں آئے، اب تک مرثیے کہتے، مرثیے سناتے اور سنتے ہیں «إنا لله وإنا إليه راجعون» ۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن مسلم الهجري: لين الحديث
وھو ضعيف الحديث علي الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
إسناده ضعيف
إبراهيم بن مسلم الهجري: لين الحديث
وھو ضعيف الحديث علي الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436