🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب : ما جاء في ذكر مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ:" مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ، فَلَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي، أَوْ إِلَى حَجْرِي فَدَعَا بِطَسْتٍ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي، فَمَاتَ وَمَا شَعَرْتُ بِهِ، فَمَتَى أَوْصَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسود کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تھے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے ان کو کب وصیت کی؟ میں تو آپ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، یا گود میں لیے ہوئے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت منگوایا، پھر آپ میری گود میں لڑھک گئے، اور وفات پا گئے، مجھے محسوس تک نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کب کی؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1626]
حضرت اسود رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں یہ ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی تھے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں وصیت کی تھی)۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کس وقت وصیت کی؟ (جب کہ وفات کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے پر یا (فرمایا) میری گود میں تھا (میں نے ان کو سینے یا گود کا سہارا دیا ہوا تھا) آپ نے برتن طلب فرمایا، (اچانک) میری گود ہی میں آپ کا جسم مبارک ڈھیلا پڑ گیا اور مجھے (روح اقدس کے پرواز کر جانے کا) احساس بھی نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کس وقت کی؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوصایا 1 (2741)، المغازي 83 (4459)، صحیح مسلم/الوصیة 5 (1636)، سنن الترمذی/الشمائل 53 (386)، سنن النسائی/الطہارة 29 (33)، الوصایا 2 (3654)، (تحفة الأشراف: 15970)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/22، 32) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← إبراهيم النخعي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← عبد الله بن عون المزني
ثقة حجة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1626 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1626
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شیعہ فرقے کے خود ساختہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین نامزد فرما دیا تھا۔
لیکن اس دعوے کی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا تعین فرمایا ہوتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو مشورہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی جانشینی کے زیادہ لائق تھے۔
خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی سقیفہ بنو ساعدہ میں یہ نہیں فرمایا کہ تمھیں مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے نامزد کیا جا چکا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس امر کا اظہار نہیں فرمایا۔
بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد بھی انھیں خلافت کی ذمہ داری اٹھانے میں تامل تھا۔
بعض لوگوں کے اصرار پر انھوں نے یہ منصب قبول فرمایا تھا۔
تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

(2)
موت کی سختی کا ایک جسمانی اثر ہے۔
جو نیک لوگوں پر بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔
ایک روحانی سختی ہے۔
جس کا تعلق فرشتوں کے روح قبض کرنے سے ہے۔
یہ نیک مومن افراد پر نہیں ہوتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روح پرواز کرنے سے پہلے کچھ گھبراہٹ محسوس کی لیکن جسم سے روح کی جُدائی اس قدر غیر محسوس طریقے پر عمل میں آئی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو احسان تب ہوا جب روح اقدس عالم بالا میں پرواز کرچکی تھی۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدت ضعف کی وجہ سے پیشاب کی حاجت کےلئے بستر سے اترنے میں مشکل محسوس کررہے تھےاس لئے برتن طلب فرمایا تاکہ اس حاجت سے فارغ ہو جایئں اور جسم اطہر اور لباس مبارک بھی قطرات سے محفوظ رہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں جسمانی طہارت وصفائی کی اہمیت کس قدر زیادہ تھی۔

(4)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن طلب فرمایا لیکن یہ حاجت پوری کرنے کی نوبت نہ آئی۔
اس سے علم غیب کے عقیدے کی نفی ہوتی ہے۔
اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم ہوتا کہ برتن کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی تو طلب نہ فرماتے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1626]

Sunan Ibn Majah Hadith 1626 in Urdu