🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَتَقَدَّمَ رَمَضَانَ بِصَوْمٍ إِلاَّ مَنْ صَامَ صَوْمًا فَوَافَقَهُ
باب: رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1651
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا صَوْمَ حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نصف شعبان ہو جائے، تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1651]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شعبان آدھا ہو جائے تو رمضان آ جانے تک کوئی روزہ نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 12 (2337)، سنن الترمذی/الصوم 38 (738)، (تحفة الأشراف: 14051، 14095)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 34 (1781) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ بات عام امت کے لئے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لئے روزہ آپ کے لئے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے روزوں کے لئے برقرار رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4428

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥مسلم بن خالد بن سعيد الزنجي، أبو خالد، أبو عبد الله
Newمسلم بن خالد بن سعيد الزنجي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
صدوق كثير الأوهام
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← مسلم بن خالد بن سعيد الزنجي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← هشام بن عمار السلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
738
إذا بقي نصف من شعبان فلا تصوموا
سنن أبي داود
2337
انتصف شعبان فلا تصوموا
سنن ابن ماجه
1651
إذا كان النصف من شعبان فلا صوم حتى يجيء رمضان
بلوغ المرام
563
‏‏‏‏إذا انتصف شعبان فلا تصوموا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1651 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1651
اردو حاشہ:
فائده:
گزشتہ حدیث سے رمضان سے پہلے بعض روزے رکھنے کا جواز ظاہر ہوتا ہے۔
لہٰذا اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ رمضان قریب آ جانے پر نفلی روزوں سے اجتناب بہتر ہے۔
تاکہ نفل اور فرض روزوں میں امتیاز ہوجائے۔
اور کوئی شخص اس قدر کمزو ر نہ ہوجائے۔
کہ رمضان کے روزوں میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1651]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 563
نفلی روزے اور جن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب شعبان آدھا ہو جائے تو روزہ نہ رکھو۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ نے اسے منکر کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 563]
563 فوائد و مسائل:
➊ یہ ممانعت اس لیے ہے کہ شعبان کے آخری دنوں میں روزے رکھ کر ضعف و کمزوری لاحق نہ ہو جائے اور رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے لیے قوت بحال رہے۔ یہ نہی تنزیہی ہے کیونکہ یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے آخری دونوں میں بھی روزہ رکھ لیتے تھے۔
➋ امام احمد رحمہ اللہ نے جو اس حدیث کو منکر کہا ہے تو اس بنا پر نہیں کہ اس کا کوئی راوی ضعیف ہے بلکہ اس وجہ سے کہ اسے بیان کرنے میں علاء بن عبدالرحمٰن منفرد ہیں اور امام احمد تفرد ثقہ پر بھی منکر کا لفظ بول دیتے ہیں۔
➌ اس ممانعت سے وہ روزے مستشنٰی ہیں جو عادتاً رکھے جاتے ہیں، مثلاً:
جو شخص ہر سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتا ہے تو اس کے لیے شعبان کے بعد بھی ان دونوں میں روزہ رکھنا جائز ہے۔ مزید تفصیل کے لیے فتح الباری وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔ ٭
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 563]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2337
اواخر شعبان کے روزے کی کراہت کا بیان۔
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور (جا کر) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو“، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2337]
فوائد ومسائل:
نصف شعبان کے بعد روزوں کی کراہت ایسے لوگوں کے لیے ہے جو ان دنوں کے روزوں کے عادی نہ ہوں۔
اگر عادت ہو تو رکھ لینے میں حرج نہیں، نیز نہی سے مقصد یہ ہے کہ رمضان میں کمزوری کا احساس نہ ہو۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2337]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 738
رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدھا شعبان رہ جائے تو روزہ نہ رکھو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 738]
اردو حاشہ:
1؎:
شعبان کے نصف ثانی میں روزہ رکھنے کی ممانعت امت کو اس لیے ہے تاکہ رمضان کے روزے کے لیے قوّت و توانائی برقرار رہے،
رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ممانعت میں داخل نہیں اس لیے کہ آپ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزے کو رمضان سے ملا لیا کرتے تھے چونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لیے روزے آپ کے لیے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 738]

Sunan Ibn Majah Hadith 1651 in Urdu