🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : ما جاء في شهري العيد
باب: عید کے دونوں مہینوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ، وَذُو الْحِجَّةِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 12 (1912)، صحیح مسلم/الصوم 7 (1089)، سنن ابی داود/الصوم 4 (2323)، سنن الترمذی/الصوم 8 (692)، (تحفة الأشراف: 11677)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/38، 47، 50) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں مہینے ۲۹ دن کے نہیں ہوتے، اگر ایک ۲۹ کا ہوتا ہے، تو دوسرا تیس کا، اور بعض نے کہا: مطلب یہ ہے کہ گو ان مہینوں کے دن کم ہوں لیکن اجر و ثواب کم نہیں ہوتا، تیس دن کا ثواب ملتا ہے اور یہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرةصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي، أبو بحر، أبو حاتم
Newعبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي
ثقة
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← خالد الحذاء
ثقة ثبت
👤←👥حميد بن مسعدة السامي، أبو علي، أبو العباس
Newحميد بن مسعدة السامي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1912
شهران لا ينقصان شهرا عيد رمضان وذو الحجة
صحيح مسلم
2532
شهرا عيد لا ينقصان
صحيح مسلم
2531
شهرا عيد لا ينقصان رمضان وذو الحجة
جامع الترمذي
692
شهرا عيد لا ينقصان رمضان وذو الحجة
سنن أبي داود
2323
شهرا عيد لا ينقصان رمضان وذو الحجة
سنن ابن ماجه
1659
شهرا عيد لا ينقصان رمضان وذو الحجة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1659 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1659
اردو حاشہ:
فائده:
اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت مختلف انداز سے کی گئی ہے۔
ایک قول کے مطابق حدیث کامطلب یہ ہے کہ مہینے انتیس کے بھی ہوں تو عظمت وثواب کے لحاظ سے بڑے ہی ہیں۔
انھیں چھوٹا نہ سمجھو۔
دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے۔
کہ ایک سال میں دونوں انتیس کے نہیں ہوتے۔
اگر ان میں سے ایک مہینہ انتیس دن کا ہوگا تو دوسرا ضرور تیس کا ہوگا۔
یہ مطلب بھی ایک حد تک صحیح ہے۔
کیونکہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔
پہلا مطلب زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
کیونکہ ر مضان میں روزوں کی عبادت کی جاتی ہے۔
اور ذوالحجہ میں حج کی عبادت ہوتی ہے۔
اور یہ دونوں اسلام کے ارکان میں سے ہیں۔
جب کہ اسلام کے دوسرے ارکان کسی خاص مہینے سے تعلق نہیں رکھتے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1659]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2323
مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2323]
فوائد ومسائل:
اس حدیث کی شرح میں کئی اقوال ہیں۔
افادات حافظ ابن قیم رحمة اللہ علیہ کا حاصل درج ذیل ہے۔

(1) یہ دونوں مہینے ایک ہی سال میں انتیس انتیس دن کے نہیں ہوتے۔
امام احمد کی رائے بھی یہی ہے۔

(2) یہ بات تغلیبی ہے یعنی بالعموم نقص میں جمع نہیں ہوتے۔
اگر کبھی ہو بھی جائیں تو وہ شاذ ہے۔

(3) علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اسی سال کے لیےتھا۔

(4) یہ دونوں مہینے اجروثواب میں کم نہیں ہوتے خواہ گنتی میں انتیس دن ہی کے ہوں۔
اللہ کے ہاں اجروثواب پورا ہوتا ہے۔

(5) اس قول سے مراد عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت کا بیان ہے کہ ان دنوں کے اعمال کا ثواب رمضان کے برابر ہوتا ہے۔
البتہ ان دونوں میں تقابلی طور پر یوں کہا جاتا ہے کہ آخری عشرہ رمضان اور اول عشرہ ذی الحجہ میں عشرہ رمضان کی راتوں کو فضیلت ہے، کیونکہ ان میں لیلة القدر ہے۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان راتوں میں عبادت کا جو اہتمام فرماتے تھے، دیگر زمانے میں ایسے نہ ہوتا تھا۔
اور دنوں کے اعتبار سے عشرہ ذی الحجہ کے دن افضل ہیں کیونکہ حدیث میں قربانی والے دن کو اعظم الایام فرمایا گیا ہے۔
اور یوم عرفہ کی فضیلت بھی معلوم و معروف ہے۔

(6) چونکہ یہ مہینے اور دن اللہ کے محبوب ترین ایام ہیں اور ان میں کیے جانے والے اعمال بہت مبارک ہوتے ہیں۔
لہذا بطور ترغیب فرمایا گیا ہے کہ ان کی کمی بیشی کا خیال مت کرو بلکہ اعمال خیر میں سبقت کی کوشش کرو۔
اجر و ثواب میں ان دونوں مہینوں میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2323]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 692
عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے۔
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان ۱؎ اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے (یعنی دونوں ۲۹ دن کے نہیں ہوتے)۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 692]
اردو حاشہ:
1؎:
یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ عید تو شوال میں ہوتی ہے پھر رمضان کو شہرعید کیسے کہا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قرب کی وجہ سے کہا گیا ہے چونکہ عید رمضان ہی کی وجہ سے متحقق ہوتی ہے لہذا اس کی طرف نسبت کر دی گئی ہے۔

2؎:
اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بعض اوقات دونوں انتیس (29) کے ہوتے ہیں،
تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عام طور سے دونوں کم نہیں ہوتے ہیں۔

3؎:
اور ایسا ہوتا بھی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 692]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2532
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دو ماہ کم نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے۔ عید کے دو ماہ رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2532]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث کا معنی بقول بعض یہ ہے کہ رمضان اور ذوالحجہ ہمیشہ تیس،
تیس کے ہوتے ہیں۔
لیکن یہ مفہوم واقعہ اور مشاہدہ کے بالکل خلاف ہے۔
اس لیے یہ معنی مراد نہیں ہو سکتا۔
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک معنی یہ ہے بیک وقت دونوں کم نہیں ہوتے اگر ایک انتیس کا ہے تو دوسرا لازماً تیس (30)
کا ہو گا لیکن یہ بھی مشاہدہ اور واقعہ کے خلاف ہے دونوں مہینے ایک ہی سال انتیس انتیس کے ہو جاتے ہیں۔
صحیح بات امام اسحاق بن راہویہ کی ہے کہ مہینہ انتیس کا ہو یا تیس کا اجر وثواب کم نہیں ہوتا۔
یا یہ معنی کیا جائے ان کے احکام دونوں صورتوں میں یکساں ہیں۔
یا یہ مقصود یہ کہ عام طور پر دونوں انتیس انتیس کے نہیں ہوتے۔
کبھی کبھار ایسا بھی ہو جاتا ہے۔
اور لحاظ عموم واکثر کا ہوتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2532]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1912
1912. حضرت ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عیدکے دونوں مہینے یعنی رمضان اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1912]
حدیث حاشیہ:
مراد رمضان اور ذی الحجہ کے دونوں مہینے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1912]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1912
1912. حضرت ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عیدکے دونوں مہینے یعنی رمضان اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1912]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو دو سندوں سے بیان کیا ہے:
ایک اسحاق بن سوید اور دوسری خالد حذاء کی ہے لیکن متن صرف خالد حذاء کی روایت کا بیان کیا ہے۔
اسحاق بن سوید کی روایت کو ابو نعیم نے مستخرج میں بیان کیا ہے کہ رمضان اور ذوالحجہ کا مہینہ کم نہیں ہوتا۔
چونکہ اس روایت کے مختلف الفاظ ہیں، اس لیے امام بخاری ؒ نے متن کے لیے خالد حذاء کی روایت کا انتخاب کیا ہے کیونکہ اس کے الفاظ میں کوئی اختلاف نہیں۔
اگرچہ ماہ شوال عید کا مہینہ ہے لیکن اسے ماہ رمضان کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔
(2)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ تعداد ایام کے اعتبار سے کم ہو سکتے ہیں لیکن کمال عبادت میں دونوں کا حکم ایک ہے۔
اگر کسی نے انتیس روزے رکھے تو اسے ثواب تیس روزوں ہی کا ملتا ہے۔
اس کے ثواب کے متعلق کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح وقوف عرفہ میں غلطی ہو جائے تو اس کا حج پورا ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔
(فتح الباري: 161/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1912]