🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : ما جاء في الإفطار في السفر
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1665
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8110، ومصباح الزجاجة: 603) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن حرب الخولاني، أبو عبد الله
Newمحمد بن حرب الخولاني ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥محمد بن المصفى القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المصفى القرشي ← محمد بن حرب الخولاني
صدوق له أوهام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1665
ليس من البر الصيام في السفر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1665 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1665
اردو حاشہ:
فائدہ:
مطلب یہ ہے کہ سمجھا جائے کہ چاہے کتنی بھی مشقت ہوسفر میں روزہ رکھنا ہے۔
یہ سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا کوئی نیکی نہیں ہے کیونکہ دین میں آسانی ہے مشقت نہیں ہے۔
اس لئے شریعت کی عطا کردہ آسانی کو قبول کرنے کی بجائے مشقت ہی کواختیار کرنا نیکی نہیں ہے۔
یہ حکم اسی وقت ہے جب شدید مشقت ہو اور روزہ پورا کرنے کی صورت میں بیماری کاخوف ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1665]