🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : ما جاء في المباشرة للصائم
باب: روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رُخِّصَ لِلْكَبِيرِ الصَّائِمِ فِي الْمُبَاشَرَةِ، وَكُرِهَ لِلشَّابِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5578، ومصباح الزجاجة: 611) (صحیح)» ‏‏‏‏ (محمد بن خالد ضعیف ہے، اور عطاء بن سائب اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، خالد واسطی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2065)
وضاحت: ۱؎: اس میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ جماع نہ کر بیٹھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد
Newعطاء بن السائب الثقفي ← سعيد بن جبير الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← عطاء بن السائب الثقفي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن خالد الطحان، أبو جعفر
Newمحمد بن خالد الطحان ← خالد بن عبد الله الطحان
متروك الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1688
رخص للكبير الصائم في المباشرة وكره للشاب
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1688 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1688
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بوڑھے اور جوان کا یہ فرق سنن بيہقی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ (دیکھئے: 232/4)
۔

(2)
عام طور پر بوڑھے کو اپنے آپ پر جو قابو ہوتا ہے جوان آدمی کو نہیں ہوتا۔
اس لئے مسئلہ اس طرح بیان فرمایا گیا۔
اگر کوئی شخص زیادہ عمر کا ہونے کے باوجود جوانوں کی طرح قوت اور جوش رکھتا ہے۔
تو اسے جوان کیطرح پرہیز کرنا چاہیے۔
اور اگر کوئی جوان اسطرح کا جوش نہیں رکھتا بلکہ اپنے آپ پر قابو رکھ سکتا ہے۔
تو اس کے لئے بوڑھے کیطرح اجازت ہوگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1688]