پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب في صيام يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن کا روزہ۔
حدیث نمبر: 1724
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ، أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ".
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1724]
حضرت محمد بن عباد بن جعفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، اس دوران میں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، قسم ہے اس گھر کے رب کی!“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 63 (1984)، صحیح مسلم/الصوم 24 (1143)، (تحفة الأشراف: 2586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/296، 312)، سنن الدارمی/الصوم 39 (1789) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1984
| نهى النبي عن صوم يوم الجمعة |
صحيح مسلم |
2681
| أنهى رسول الله عن صيام يوم الجمعة فقال نعم |
سنن ابن ماجه |
1724
| أنهى النبي عن صيام يوم الجمعة قال نعم |
المعجم الصغير للطبراني |
388
| يوم الجمعة لا يصام وحده |
مسندالحميدي |
1260
| نعم، ورب هذا البيت |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1724 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1724
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
طواف کعبہ کے دوران میں بات چیت کرنا جائز ہے۔
تاہم فضول بات چیت سے اجتناب کرتے ہوئے دعا وذکر میں مشغول رہنا افضل ہے۔
(2)
اللہ کی مخلوق کی قسم کھانا حرام ہے۔
لیکن اللہ کا ذکر اس کی کسی صفت کے ساتھ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس لئے کعبہ کی قسم کھانے کی بجائے کعبہ کے رب کی قسم کھانی چاہیے۔
(3)
کسی بات کی تاکید کے لئے قسم کھانا جائز ہے۔
لیکن بلا ضرورت کثرت سے قسمیں کھانا اچھا نہیں اور جھوٹی قسم تو بہت بڑا گناہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
طواف کعبہ کے دوران میں بات چیت کرنا جائز ہے۔
تاہم فضول بات چیت سے اجتناب کرتے ہوئے دعا وذکر میں مشغول رہنا افضل ہے۔
(2)
اللہ کی مخلوق کی قسم کھانا حرام ہے۔
لیکن اللہ کا ذکر اس کی کسی صفت کے ساتھ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس لئے کعبہ کی قسم کھانے کی بجائے کعبہ کے رب کی قسم کھانی چاہیے۔
(3)
کسی بات کی تاکید کے لئے قسم کھانا جائز ہے۔
لیکن بلا ضرورت کثرت سے قسمیں کھانا اچھا نہیں اور جھوٹی قسم تو بہت بڑا گناہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1724]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1260
1260-محمد بن عباد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: وہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اس گھر کے پروردگار کی قسم! جی ہاں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1260]
فائدہ:
اس حدیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان ہے۔ طواف کے دوران اہم دینی باتیں کی جاسکتی ہیں، جس بات کا علم نہ ہو اس کا علماء سے سوال کر لینا چاہیے۔ مسئلہ بتاتے وقت قسم کھانا جائز ہے۔
اس حدیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان ہے۔ طواف کے دوران اہم دینی باتیں کی جاسکتی ہیں، جس بات کا علم نہ ہو اس کا علماء سے سوال کر لینا چاہیے۔ مسئلہ بتاتے وقت قسم کھانا جائز ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1258]
Sunan Ibn Majah Hadith 1724 in Urdu
محمد بن عباد المخزومي ← جابر بن عبد الله الأنصاري