🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : صيام يوم عاشوراء
باب: یوم عاشوراء کا روزہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1735
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ:" مِنْكُمْ أَحَدٌ طَعِمَ الْيَوْمَ"، قُلْنَا: مِنَّا طَعِمَ، وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَطْعَمْ، قَالَ:" فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ مَنْ كَانَ طَعِمَ، وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْ فَأَرْسِلُوا إِلَى أَهْلِ الْعَرُوضِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ، قَالَ: يَعْنِي أَهْلَ الْعَرُوضِ حَوْلَ الْمَدِينَةِ.
محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عاشوراء کے دن فرمایا: آج تم میں سے کسی نے کھانا کھایا ہے؟ ہم نے عرض کیا: بعض نے کھایا ہے اور بعض نے نہیں کھایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھایا ہے اور جس نے نہیں کھایا ہے دونوں شام تک کچھ نہ کھائیں، اور «عروض» ۱؎ والوں کو کہلا بھیجو کہ وہ بھی باقی دن روزہ کی حالت میں پورا کریں ۲؎۔ راوی نے کہا اہل عروض سے آپ مدینہ کے آس پاس کے دیہات کو مراد لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1735]
حضرت محمد بن صیفی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن ہمیں فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے آج کھانا کھایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم میں سے بعض نے کھانا کھایا ہے اور بعض نے نہیں کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن کے باقی حصے کا روزہ پورا کرو، جس نے کھانا کھایا ہے، (وہ بھی روزہ رکھ لے) اور «الْعَرُوضِ» والوں کو بھی کہلا بھیجو کہ وہ دن کے باقی حصے کا روزہ پورا کریں۔ راویِ حدیث بیان کرتے ہیں کہ «الْعَرُوضِ» والوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ کے قریب و جوار کے لوگ تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11225، ومصباح الزجاجة: 622)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «عروض» کا اطلاق مکہ، مدینہ اور ان دونوں کے اطراف کے دیہات پر ہوتا ہے۔
۲؎: اس سے عاشوراء کے روزے کی بڑی تاکید معلوم ہوتی ہے، اور شاید یہ حدیث اس وقت کی ہو جب عاشوراء کا روزہ فرض تھا کیونکہ رمضان کا روزہ ہجرت کے بہت دنوں کے بعد مدینہ منورہ میں فرض ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن صيفي الخطمي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← محمد بن صيفي الخطمي
ثقة
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل
Newالحصين بن عبد الرحمن السلمي ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1735
منكم أحد طعم اليوم قلنا منا طعم ومنا من لم يطعم قال فأتموا بقية يومكم من كان طعم ومن لم يطعم فأرسلوا إلى أهل العروض فليتموا بقية يومهم
سنن النسائى الصغرى
2322
أتموا بقية يومكم وابعثوا إلى أهل العروض فليتموا بقية يومهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1735 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1735
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  عاشورا کا روزہ مستحب ہے تاہم دوسری احادیث کی روشنی میں اکیلے دس محرم کا روزہ نہیں رکھنا چاہے بلکہ اس کے سا تھ نو محرم کا روزہ رکھ لینا چاہے
(2)
اگر دن کے وقت چاند ہو نے کی اطلاع ملے تو باقی دن کا روزہ رکھنا چاہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے تو دن کا کچھ حصہ گزر چکا تھا پھر بھی باقی دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1735]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2322
رمضان میں حائضہ پاک ہو جائے یا مسافر واپس آ جائے تو کیا دن کے باقی حصہ میں روزہ رکھے؟
محمد بن صیفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے آج کے دن کھایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن ہوں نے روزہ رکھا ہے، اور کچھ لوگوں نے نہیں رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا باقی دن (بغیر کھائے پیئے) پورا کرو ۱؎، اہل عروض ۲؎ کو خبر کرا دو کہ وہ بھی اپنا باقی دن (بغیر کھائے پئے) پورا کریں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2322]
اردو حاشہ:
(1) یوم عاشوراء سے متعلق مجموعی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اس دن کا روزہ فرض تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف احادیث میں اس کے منتعلق حکم منقول ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (فتح الباري: 4/ 247) یہ اعلان آپ نے دن چڑھے فرمایا، شاید فرضیت کا حکم اسی وقت آیا ہو۔
(2) باقی دن کچھ نہ کھانا خواہ پہلے کھانا کھا ہی چکا ہو۔ اس صورت میں روزہ صحیح ہوگا، اور شرعاً قابل اعتبار، نیز اس کی جگہ بعد میں روزہ رکھنا ضروری نہیں، یہی موقف حق ہے کیونکہ اس کی قضا ادا کرنے کا حکم نہیں، جس روایت میں قضا کا حکم ہے وہ سنداً ناقابل حجت اور ضعیف ہے۔ دیکھئے: (سنن أبي داؤد، حدیث: 2447) جیسے بھول کر کھانے پینے والے کا شرعاً مؤاخذہ نہیں اور نہ اس کا روزہ ہی فاسد ہوتا ہے، یہی توجیہ زیر بحث مسئلے میں ہو سکتی ہے۔ واللہ أعلم! امام نسائی رحمہ اللہ نے حائضہ اور مسافر کو بھی اسی پر قیاس فرمایا ہے کہ اگر دن کے دوران میں ان کا عذر ختم ہو جائے تو وہ باقی دن کچھ نہ کھائیں پئیں، خواہ پہلے کچھ کھایا پیا ہو یا نہ۔ لیکن اب رکنا لازمی ہے۔
(3) قرب وجوار بستیوں عربی میں لفظ عروض استعمال ہوا ہے، جس سے مراد مکہ، مدینہ اور یمن کا تمام علاقہ ہے، لیکن ظاہر ہے اس وقت یہ اعلان اتنے علاقے میں تو نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے مندرجہ بالا معنیٰ کیے گئے کیونکہ اس وقت یہی ممکن تھا۔
(4) طلوع فجر صادق سے قبل روزے کی نیت اس کے لیے ضروری ہے جسے علم ہو کہ صبح کو روزہ ہے۔ جسے پتا ہی دن کے وقت چلے کہ آج روزہ ہے، تو اگر اس نے طلوع فجر کے بعد اس وقت تک کچھ نہیں کھایا، وہ روزے کی نیت کر سکتا ہے اور اس کی دن کی نیت معتبر ہوگی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2322]

Sunan Ibn Majah Hadith 1735 in Urdu