پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب : من مات وعليه صيام رمضان قد فرط فيه
باب: کوتاہی سے میت کے رہ جانے والے روزوں کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر جائے، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1757]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمے ماہ رمضان کے روزے ہوں، تو اس کی طرف سے ہر دن (کے روزے) کی جگہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 23 (718)، (تحفة الأشراف: 8423) (صحیح)» (اس کی سند میں محمد بن سیرین کا ذکر وہم ہے، سنن ترمذی میں صرف ”محمد“ کا ذکر بغیر کسی نسبت کے ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ محمد سے میرے نزدیک ابن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ہیں، اور اس حدیث کو ہم مرفوعاً اسی طریق سے جانتے ہیں، اور صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ 2056، وکامل ابن عدی 1؍365، اور محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہیں، حافظ ابن حجر کہتے ہیں: «صدوق سئی الحفظ جداً» ، صدوق ہیں، اور حافظہ بہت برا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (718)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
إسناده ضعيف
ترمذي (718)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 442
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أشعث بن سوار الكندي أشعث بن سوار الكندي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥عبثر بن القاسم الزبيدي، أبو زبيد عبثر بن القاسم الزبيدي ← أشعث بن سوار الكندي | ثقة | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← عبثر بن القاسم الزبيدي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← قتيبة بن سعيد الثقفي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
718
| من مات وعليه صيام شهر فليطعم عنه مكان كل يوم مسكينا |
سنن ابن ماجه |
1757
| من مات وعليه صيام شهر فليطعم عنه مكان كل يوم مسكين |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1757 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1757
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اما م ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی تو ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے طو ر پر صحیح سند سے مروی نہیں (جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء في الکفارۃ، حدیث: 718)
۔
(2)
امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر جو عنوان لکھا ہے اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کی رائے میں اگر روزوں کی قضا نہ دینے میں مرنے والے کی کوتاہی کو دخل نہ بلکہ اسے قضا ادا کرنے کا مو قع ہی نہ ملا ہو تو اس کی طرف سے کھانا کھلانے کی ضرورت نہیں اس مسئلے کی بابت مزید دیکھیے: حدیث 1759 کے فوائد و مسا ئل۔
فوائد و مسائل:
(1)
اما م ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی تو ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے طو ر پر صحیح سند سے مروی نہیں (جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء في الکفارۃ، حدیث: 718)
۔
(2)
امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر جو عنوان لکھا ہے اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کی رائے میں اگر روزوں کی قضا نہ دینے میں مرنے والے کی کوتاہی کو دخل نہ بلکہ اسے قضا ادا کرنے کا مو قع ہی نہ ملا ہو تو اس کی طرف سے کھانا کھلانے کی ضرورت نہیں اس مسئلے کی بابت مزید دیکھیے: حدیث 1759 کے فوائد و مسا ئل۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1757]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 718
میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 718]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 718]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں اشعث بن سوار کندی ضعیف ہیں،
نیز اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں اشعث بن سوار کندی ضعیف ہیں،
نیز اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 718]
Sunan Ibn Majah Hadith 1757 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي