🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب في الأكل يوم الفطر قبل أن يخرج
باب: عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوَابُ بْنُ عُتْبَةَ الْمَهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى يَرْجِعَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ (عید گاہ سے) واپس نہ آ جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1756]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر (عید کے لیے) نہیں نکلتے تھے اور قربانی کے دن (نماز عید سے) واپسی تک نہیں کھاتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 273 (542)، (تحفة الأشراف: 1954)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/252، 360)، سنن الدارمی/الصلاة 217 (1641) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عیدالفطر کے دن نماز عید سے پہلے کچھ کھانا، اور عیدالاضحی کے دن بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے، البتہ کھجور یا چھوہارے کھا کر جانا مسنون ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن طاق کھجوریں کھا کر عیدگاہ جایا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥ثواب بن عتبة المهري
Newثواب بن عتبة المهري ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
مقبول
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← ثواب بن عتبة المهري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
542
لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم لا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي
سنن ابن ماجه
1756
لا يخرج يوم الفطر حتى يأكل كان لا يأكل يوم النحر حتى يرجع
بلوغ المرام
388
لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الاضحى حتى يصلي
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1756 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1756
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عید الاضحی کے دن نما ز سے پہلے کھانا نہ کھانا مسنون ہے۔

(2)
عوام اس اجتناب کو روزہ کہہ دیتے ہیں یہ غلط ہے عید کے دن روزہ ر کھنا جائز ہے، نہ نماز عید سے پہلے کھانا کھانے سے اجتنا ب کو روزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1756]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 388
نماز عیدین کا بیان
سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر کے لئے کچھ نہ کچھ کھائے بغیر نہ نکلتے تھے البتہ عید قربان (عید الاضحی) کے دن جب تک نماز ادا نہ فرما لیتے کچھ تناول نہ فرماتے تھے۔
اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 388»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج، حديث:542، وقال: غريب، وابن حبان (الموارد)، حديث:593، وأحمد:5 /353.»
تشریح:
1. یہ حدیث بتاتی ہے کہ عید الفطر کے روز نماز سے پہلے کچھ کھانا اور عید قربان کے روز بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے‘ البتہ کھجوروں‘ چھواروں کو مسنون سمجھ کر کھائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 388]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 542
عیدالفطر کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 542]
اردو حاشہ:
1؎:
بر صغیر ہند و پاک کے مسلمانوں نے پتہ نہیں کہاں سے یہ حتمی رواج بنا ڈالا ہے کہ سوئیاں کھا کرعید گاہ جاتے ہیں،
اور آ کر بھی کھاتے کھلاتے ہیں،
اس رواج کی اس حد تک پابندی کی جاتی ہے کہ عیدالفطر اور سوئیاں لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں،
جیسے عیدالاضحی میں گوشت،
اس حد تک پابندی بدعت کے زمرے میں داخل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 542]

الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، سنن ترمذی 542
سوال: کیا عیدالاضحیٰ کو نماز عید سے پہلے کچھ کھا پی سکتے ہیں؟
جواب: مسنون یہ ہے کہ عید الفطر کی نماز سے پہلے کچھ کھا کر جایا جائے اور عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھایا جائے، نماز کے بعد قربانی کی جائے اور اس کا گوشت کھایا جائے، یہ مستحب ہے۔
اگر کوئی عیدالاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ کھا پی لے، تو کوئی حرج نہیں۔
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ وَلَا يَأْكُلُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ فَيَأْكُلَ مِنْ كَبِدِ أُضْحِيَّتِهِ.» [مسند الإمام أحمد: 352/5، سنن الترمذي: 542، سنن ابن ماجه: 1756، فضائل الأوقات للبيهقي: 215، واللفظ له]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز کے لیے) نکلتے، تو کچھ کھا پی کر نکلتے تھے اور عید الاضحیٰ کو بغیر کھائے نکلتے، پھر واپس آ کر قربانی کی کلیجی کھاتے تھے۔ [وسنده حسنٌ]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1426)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2812) نے صحیح، اور امام حاکم رحمہ اللہ (294/1) نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
◈ حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«عِنْدِي أَنَّهُ صَحِيحٌ.» [بيان الوهم والإيهام: 356/5]
میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔
◈ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذِهِ سُنَّةٌ عَزِيزَةٌ مِنْ طَرِيقِ الرِّوَايَةِ مُسْتَفِيضَةٌ فِي بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ.» [المُستدرك على الصّحيحين، تحت الرقم: 1088]
یہ سنت روایت کے اعتبار سے عزیز ہے اور (عمل کے اعتبار سے) مسلم علاقوں میں عام ہے۔
[فتاوی امن پوری، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sunan Ibn Majah Hadith 1756 in Urdu