سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. باب في المعتكف يلزم مكانا من المسجد
باب: معتکف اعتکاف کے لیے مسجد میں ایک جگہ خاص کر لے۔
حدیث نمبر: 1774
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ طُرِحَ لَهُ فِرَاشُهُ، أَوْ يُوضَعُ لَهُ سَرِيرُهُ وَرَاءَ أُسْطُوَانَةِ التَّوْبَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرتے تو آپ کا بستر بچھا دیا جاتا تھا یا چارپائی توبہ کے ستون کے پیچھے ڈال دی جاتی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8250، ومصباح الزجاجة: 635) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: یہ وہی ستون ہے جس میں ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو باندھ لیا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا وہ اسی طرح بندھے رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عيسى بن موسى القرشي عيسى بن موسى القرشي ← نافع مولى ابن عمر | مقبول | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← عيسى بن موسى القرشي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥نعيم بن حماد الخزاعي، أبو عبد الله نعيم بن حماد الخزاعي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | صدوق يخطئ كثيرا | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← نعيم بن حماد الخزاعي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1774
| إذا اعتكف طرح له فراشه أو يوضع له سريره وراء أسطوانة التوبة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1774 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1774
اردو حاشہ:
فائدہ:
توبہ کے ستون سے مراد مسجد نبوی کا ایک خاص ستون ہے حضرت ابو لبا بہ ؓ سے ایک غلطی ہو گئی تھی جس کا احساس ہونے پر انھوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے اس ستون سے با ندھ لیا تھا کہ جب تک اللہ تعالی مجھے معاف نہیں کرے گا میں یہیں باندھا رہوں گا تین دن کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے حضرت ابو لبابہ کی توبہ قبول ہو نے کی بشارت دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا کر خود انھیں کھولا۔
فائدہ:
توبہ کے ستون سے مراد مسجد نبوی کا ایک خاص ستون ہے حضرت ابو لبا بہ ؓ سے ایک غلطی ہو گئی تھی جس کا احساس ہونے پر انھوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے اس ستون سے با ندھ لیا تھا کہ جب تک اللہ تعالی مجھے معاف نہیں کرے گا میں یہیں باندھا رہوں گا تین دن کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے حضرت ابو لبابہ کی توبہ قبول ہو نے کی بشارت دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا کر خود انھیں کھولا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1774]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي