سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : فيما أنكرت الجهمية
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حدیث نمبر: 184
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ سَلامٌ قَوْلا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ سورة يس آية 58 قَالَ: فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِمْ فِي دِيَارِهِمْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: ”اے جنت والو! تم پر سلام ہو“، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «سلام قولا من رب رحيم» (سورة يس: 58) کا ”رحيم (مہربان) رب کی طرف سے (اہل جنت کو) سلام کہا جائے گا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 184]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ جنت اپنی نعمتوں (سے لطف اندوز ہونے) میں (مشغول) ہوں گے، اچانک ایک نور نمایاں ہوگا۔ وہ سر اٹھائیں گے تو (دیکھیں گے کہ) رب ان کے اوپر جلوہ افروز ہوگا۔ وہ فرمائے گا: اے جنت والو! تم پر سلامتی ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں یہی مذکور ہے: ﴿سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ﴾ [سورة يس: 58] ”مہربان رب کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔“ اللہ تعالیٰ ان کی طرف دیکھے گا اور وہ اس کا دیدار کریں گے، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے رہیں گے، جنت کی کسی نعمت کی طرف توجہ نہیں دیں گے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ پردے میں ہو جائے گا اور ان کے گھروں میں اس کی طرف سے نور اور برکت رہ جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3067، ومصباح الزجاجة: 69) (ضعیف)» (ابوعاصم العبادانی منکر الحدیث اور الفضل بن عیسیٰ بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، نیزملاحظہ ہو: المشکاة: 5664)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں کئی طرح سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جہت علو میں ہے، نیز کلام اللہ کا حروف و اصوات پر مشتمل ہونا، اور قابل سماع ہونا بھی ثابت ہوا کہ جنتی جنت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، جہمیہ اللہ رب العزت کی رؤیت کے منکر ہیں، ان کا مذہب باطل ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الفضل الرقاشي: منكر الحديث ورمي بالقدر (تقريب: 5413) وقال أيوب السختياني رحمه اللّٰه: ’’ لو ولد أخرس،كان خيرًا له ‘‘ (كتاب الضعفاء للبخاري بتحقيقي: 306 وسنده صحيح)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
إسناده ضعيف
الفضل الرقاشي: منكر الحديث ورمي بالقدر (تقريب: 5413) وقال أيوب السختياني رحمه اللّٰه: ’’ لو ولد أخرس،كان خيرًا له ‘‘ (كتاب الضعفاء للبخاري بتحقيقي: 306 وسنده صحيح)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
184
| السلام عليكم يا أهل الجنة قال وذلك قول الله سلام قولا من رب رحيم |
Sunan Ibn Majah Hadith 184 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري