🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : ما جاء في فضل النكاح
باب: نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1847]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں محبت رکھنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5695، ومصباح الزجاجة: 655) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اکثر دو قوموں میں یا دو شخص میں عداوت ہوتی ہے، جب نکاح کی وجہ سے باہمی رشتہ ہو جاتا ہے تو وہ عداوت جاتی رہتی ہے، اور کبھی محبت کم ہوتی ہے تو نکاح سے زیادہ ہو جاتی ہے، اور یہی سبب ہے کہ قرابت دو طرح کی ہو گئی ہے، ایک نسبی قرابت، دوسرے سببی قرابت، اور انسان کو اپنی بیوی کے بھائی بہن سے ایسی الفت ہوتی ہے جیسے اپنے سگے بھائی بہن سے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥إبراهيم بن ميسرة الطائفي
Newإبراهيم بن ميسرة الطائفي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثبت حافظ
👤←👥محمد بن مسلم بن سس، أبو عبد الله
Newمحمد بن مسلم بن سس ← إبراهيم بن ميسرة الطائفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن سليمان الضبي، أبو عثمان
Newسعيد بن سليمان الضبي ← محمد بن مسلم بن سس
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← سعيد بن سليمان الضبي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1847
لم نر للمتحابين مثل النكاح
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1847 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1847
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دو خاندانوں میں دوستانہ تعلقات ہوں تو انہیں قائم رکھنے اور مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رشتہ لینا دینا چاہیے۔
کسی مرد اور عورت کا ایک دوسرے کی طرف میلان ہو جائے تو ناجائز تعلقات قائم کرنے کے بجائے نکاح کا جائز تعلق قائم کر لینا بہتر ہے، تاہم اس میں نکاح کی دیگر شروط، یعنی عورت کے سرپرست کی اجازت، حق مہر، ایجاب و قبول اور گواہوں کی موجودگی وغیرہ کا پایا جانا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1847]

Sunan Ibn Majah Hadith 1847 in Urdu