سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ما جاء في فضل النكاح
باب: نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1847]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں محبت رکھنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5695، ومصباح الزجاجة: 655) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اکثر دو قوموں میں یا دو شخص میں عداوت ہوتی ہے، جب نکاح کی وجہ سے باہمی رشتہ ہو جاتا ہے تو وہ عداوت جاتی رہتی ہے، اور کبھی محبت کم ہوتی ہے تو نکاح سے زیادہ ہو جاتی ہے، اور یہی سبب ہے کہ قرابت دو طرح کی ہو گئی ہے، ایک نسبی قرابت، دوسرے سببی قرابت، اور انسان کو اپنی بیوی کے بھائی بہن سے ایسی الفت ہوتی ہے جیسے اپنے سگے بھائی بہن سے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1847
| لم نر للمتحابين مثل النكاح |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1847 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1847
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دو خاندانوں میں دوستانہ تعلقات ہوں تو انہیں قائم رکھنے اور مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رشتہ لینا دینا چاہیے۔
کسی مرد اور عورت کا ایک دوسرے کی طرف میلان ہو جائے تو ناجائز تعلقات قائم کرنے کے بجائے نکاح کا جائز تعلق قائم کر لینا بہتر ہے، تاہم اس میں نکاح کی دیگر شروط، یعنی عورت کے سرپرست کی اجازت، حق مہر، ایجاب و قبول اور گواہوں کی موجودگی وغیرہ کا پایا جانا ضروری ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
دو خاندانوں میں دوستانہ تعلقات ہوں تو انہیں قائم رکھنے اور مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رشتہ لینا دینا چاہیے۔
کسی مرد اور عورت کا ایک دوسرے کی طرف میلان ہو جائے تو ناجائز تعلقات قائم کرنے کے بجائے نکاح کا جائز تعلق قائم کر لینا بہتر ہے، تاہم اس میں نکاح کی دیگر شروط، یعنی عورت کے سرپرست کی اجازت، حق مہر، ایجاب و قبول اور گواہوں کی موجودگی وغیرہ کا پایا جانا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1847]
Sunan Ibn Majah Hadith 1847 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي