🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : النهي عن التبتل
باب: کنوارا رہنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1848
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ:" لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کر دی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 8 (5073، 5074)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1402)، سنن الترمذی/النکاح 2 (1083)، سنن النسائی/النکاح 4 (3214)، (تحفة الأشراف: 3856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/175، 176، 183)، سنن الدارمی/ النکاح 3 (2213) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «تبتل» کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کر نے اور ازدواجی تعلق سے الگ تھلگ رہنے کے ہیں، نصاری کی اصطلاح میں اسے رہبانیت کہتے ہیں، تجرد کی زندگی گزارنا اور شادی کے بغیر رہنا شریعت اسلامیہ میں جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حجة
👤←👥محمد بن عثمان القرشي، أبو مروان
Newمحمد بن عثمان القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5073
رد رسول الله على عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن له لاختصينا
صحيح مسلم
3404
رد رسول الله على عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن له لاختصينا
صحيح مسلم
3405
رد على عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن له لاختصينا
صحيح مسلم
3406
أراد عثمان بن مظعون أن يتبتل فنهاه رسول الله ولو أجاز له ذلك لاختصينا
جامع الترمذي
1083
رد رسول الله على عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن له لاختصينا
سنن النسائى الصغرى
3214
لقد رد رسول الله على عثمان التبتل ولو أذن له لاختصينا
سنن ابن ماجه
1848
رد رسول الله على عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن له لاختصينا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1848 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1848
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
۔
حضرت عثمان بن مظعون ؓ عبادت کا بہت شوق رکھتے تھے۔
انہوں نے سوچا کہ نکاح کر کے بیوی بچوں کے معاملات میں مشغول ہونے سے نفلی عبادت، یعنی نفلی نماز روزے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں، اس لیے بہتر ہے نکاح نہ کیا جائے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بے نکاح رہنے کی اجازت نہ دی۔
صحابہ کرام ؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کرتے تھے کیونکہ ممکن ہے ایک کام بظاہر نیکی کا ہو اور بہت اچھا معلوم ہوتا ہو لیکن شریعت کی رو سے وہ صحیح نہ ہو۔
بدعت بھی بظاہر نیکی ہوتی ہے لیکن اس کے ظاہری نیکی ہونے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔
خلاف سنت کام کتنا ہی اچھا معلوم ہوتا ہو، اس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
اللہ کا قرب حاصل کرنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہندوؤں، جوگیوں یا عیسائی راہبوں کی طرح حلال چیزوں سے بھی پرہیز کیا جائے بلکہ کھانے، پینے اور دیگر معاملات میں شرعی ہدایات پر عمل کرنے سے اللہ کا قرب حاصل ہو تا ہے۔
کسی کو مردانہ قوت سے محروم کرنا یا خود اس قوت سے محروم ہونے کی کوشش کرنا شرعاً منع ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1848]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3214
مجرد (عورتوں سے الگ تھلگ) رہنے کی ممانعت کا بیان۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو مجرد (غیر شادی شدہ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا، اور اگر آپ انہیں اس کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3214]
اردو حاشہ:
حضرت عثمان مظعون رضی اللہ عنہ نوجوان تھے۔ بہت عبادت گزار تھے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم ہر وقت عبادت میں مشغول رہیں اور عورتوں کے جھنجٹ میں نہ پڑیں، لیکن آپ نے اجازت نہ دی کیونکہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔ انسانی خصائص کو قائم رکھتے ہوئے حقوق اللہ کی ادائیگی کرنا ہی اصل فضیلت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3214]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1083
بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون کو بغیر شادی کے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1083]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ہم اپنے آپ کو ایساکرلیتے کہ ہمیں عورتوں کی خواہش رہ ہی نہیں جاتی تاکہ شادی بیاہ کے مراسم سے الگ تھلگ رہ کر ہم صرف اللہ کی عبادت میں مشغول رہ سکیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1083]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3406
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں، حضرت عثمان بن مظعون ؓ نے دنیوی لذائذ سے الگ تھلگ ہونے کا ارادہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فر دیا، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت مرحمت فر دیتے، تو ہم اپنی جنسی خواہش ختم کر ڈالتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3406]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
تبتل کا اصل معنی علیحدگی اور یکسوئی اختیار کرنا ہے،
یعنی دنیوی لذات وشہوات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر چھوڑدینا،
اوررہبانیت اختیار کرلینا ہے،
ار اس میں سب سے بڑی رکاوٹ گھر،
اور اہل وعیال اور ان کے معاش کے انتظامات ہیں،
اس لیے اگر انسان شادی نہ کرے تو دنیا کے اکثر جھمیلوں سے آزاد ہوتا ہے اور اس کے لیے ترک دنیا آسان ہوجاتا ہے،
اس لیے جب انسان خصی ہوجائے تو نہ رہے بانس اورنہ بجے بانسری،
کے مطابق،
خلوت یاترک دنیا میں حائل رکاوٹ ختم ہوجاتی ہے لیکن اسلام رہبانیت کی اجازت نہیں دیتا،
وہ جلوت وخلوت میں چاہتا ہے کہ انسان کاروبار حیات میں مصروف رہ کر عبادت کے لیے وقت نکالے اوراللہ کا طاعت گزار بنے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3406]