🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. بَابُ : التَّسَتُّرِ عِنْدَ الْجِمَاعِ
باب: جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1920
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ، قَالَ:" احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ:" فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تُرِيَهَا أَحَدًا، فَلَا تُرِيَنَّهَا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ:" فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ".
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1920]
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد حضرت حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہ اور وہ (اپنے والد) بہز کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اعضائے مستورہ میں سے ہمیں کس چیز کے ظاہر کرنے کی اجازت ہے اور کس چیز کی ممانعت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی اور لونڈی کے سوا سب سے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھ۔ میں نے عرض کیا: یہ ارشاد فرمائیے کہ اگر لوگ اکٹھے ہوں (یا اکٹھے رہتے ہوں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ ممکن ہو کہ اسے کوئی نہ دیکھے تو ہرگز کسی کی نظر اس پر نہ پڑنے دے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی اکیلا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب بھی لوگوں سے زیادہ اللہ کا حق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الحمام 2 (4017)، سنن الترمذی/الأدب 26 (2769)، (تحفة الأشراف: 11380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/3، 4) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی طرح کشف ستر کی اجازت نہ دی، اب جو لوگ حمام میں نہلانے والوں یا حجام کے سامنے ننگے ہو جاتے ہیں، یا عورتیں ایک دوسری کے سامنے، یہ شرعی نقطہء نظر سے بالکل منع ہے، بوقت ضرورت تنہائی میں ننگے ہونا درست ہے،جیسے نہاتے وقت یہ نہیں کہ بلاضرورت ننگے ہو کر بیٹھے، اللہ تعالی سے اور فرشتوں سے شرم کرنا چاہئے، سبحان اللہ جیسا شرم و حیا کا اعتبار دین اسلام میں ہے ویسا کسی دین میں نہیں ہے، یہود اور نصاری ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے ہیں، اور مشرکین عہد جاہلیت میں جاہلیت کے وقت ننگے ہو کر طواف اور عبادت کیا کرتے تھے، اور اب بھی یہ رسم ہندوؤں میں موجود ہے، مگر اسلام نے ان سب ہی باتوں کو رد کر دیا، تہذیب، حیاء اور شرم سکھائی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن حيدة القشيري، أبو حكيمصحابي
👤←👥حكيم بن معاوية البهزي
Newحكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري
صدوق حسن الحديث
👤←👥بهز بن حكيم القشيري، أبو عبد الملك
Newبهز بن حكيم القشيري ← حكيم بن معاوية البهزي
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← بهز بن حكيم القشيري
ثقة ثبت
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
Q278
أحق أن يستحيا منه من الناس
جامع الترمذي
2794
احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك إذا كان القوم بعضهم في بعض قال إن استطعت أن لا يراها أحد فلا يراها إذا كان أحدنا خاليا قال فالله أحق أن يستحيا منه من الناس
جامع الترمذي
2769
احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك إن استطعت أن لا يراها أحد فافعل الرجل يكون خاليا قال فالله أحق أن يستحيا منه
سنن أبي داود
4017
احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك إذا كان القوم بعضهم في بعض قال إن استطعت أن لا يرينها أحد فلا يرينها إذا كان أحدنا خاليا قال الله أحق أن يستحيا منه من الناس
سنن ابن ماجه
1920
احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك إن كان القوم بعضهم في بعض قال فإن استطعت أن لا تريها أحدا فلا ترينها إن كان أحدنا خاليا قال فالله أحق أن يستحيا منه من الناس
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1920 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1920
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیوی اور لونڈی کے سوا ہر کسی سے شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا مطلب ناجائز تعلقات اور بدکاری سے اجتناب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے:
﴿وَلَا تَقْرَ‌بُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾  (بنی اسرائیل: 32)
زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اعضائے مستورہ پر کسی کی نظر نہ پڑنے دی۔

(2)
عام طور پر مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے اس معاملہ ميں احتیاط کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔
یہ غلط رویہ ہے۔
بغیر کسی مجبوری کے مرد دوسرے مرد کے اور عورت دوسری عورت کے اعضائے مستورہ کو نہیں دیکھ سکتے۔

(3)
اس حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مستورہ دیکھ لیں تو گناہ نہیں۔
آئندہ روایتوں میں اس کی ممانعت مذکور ہے لیکن وہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔

(4)
تنہائی میں بھی بلا ضرورت بالکل ننگا ہونے سے اجتناب کرنا چاہیے اگرچہ غسل وغیرہ کے وقت تمام کپڑے اتارنا جائز ہے۔ (صحیح البخاري، الغسل، باب من اغتسل عریانا وحدہ فی خلوۃ، ومن تستر فالتستر أفضل، حدیث: 278)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1920]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري Q278
جس نے تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کیا اور جس نے کپڑا باندھ کر غسل کیا اور کپڑا باندھ کر غسل کرنا افضل ہے
«. . . وَقَالَ بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ " . . . .»
. . . ‏‏‏‏ اور بہز بن حکیم نے اپنے والد سے، انہوں نے بہز کے دادا (معاویہ بن حیدہ) سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ، وَمَنْ تَسَتَّرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ:: Q278]
تشریح:
اس کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ اصحاب سنن نے روایت کیا ہے۔ پوری حدیث یوں ہے کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم کن شرمگاہوں پر تصرف کریں اور کن سے بچیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف تمہاری بیوی اور لونڈی تمہارے لیے حلال ہے۔ میں نے کہا: حضور جب ہم میں سے کوئی اکیلا ہو تو ننگا غسل کر سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔

ابن ابی لیلیٰ نے اکیلے بھی ننگا نہانا ناجائز کہا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا رد کیا اور بتلایا کہ یہ جائز ہے مگر ستر ڈھانپ کر نہانا افضل ہے۔ حدیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت ایوب علیہ السلام کا نہانا مذکور ہے۔ اس سے ترجمہ باب ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 278]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4017
ننگے ہونے کا بیان۔
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4017]
فوائد ومسائل:
تنہائی میں بھی بلاوجہ ننگا ہو بیٹھنا جائز نہیں اور تعجب ہے کہ ہمارے ہاں کے جاہل اور بدعتی ومشرک لوگ ننگ دھڑنگ بے دین اور بے شعور لوگوں کو ولی اللہ سمجھتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4017]

Sunan Ibn Majah Hadith 1920 in Urdu