🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ما جاء في التعري
باب: ننگے ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4017
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى نَحْوَهُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَيَنَّهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ: اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ".
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الطہارة قبیل حدیث (278 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الأدب 39 (2794)، سنن ابن ماجہ/النکاح 28 (1920)، (تحفة الأشراف: 11380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/3، 4) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3117)
أخرجه الترمذي (2794 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (1920 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن حيدة القشيري، أبو حكيمصحابي
👤←👥حكيم بن معاوية البهزي
Newحكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري
صدوق حسن الحديث
👤←👥بهز بن حكيم القشيري، أبو عبد الملك
Newبهز بن حكيم القشيري ← حكيم بن معاوية البهزي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← بهز بن حكيم القشيري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
👤←👥مسلمة بن قعنب الحارثي
Newمسلمة بن قعنب الحارثي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مسلمة بن قعنب الحارثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
Q278
أحق أن يستحيا منه من الناس
جامع الترمذي
2794
احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك إذا كان القوم بعضهم في بعض قال إن استطعت أن لا يراها أحد فلا يراها إذا كان أحدنا خاليا قال فالله أحق أن يستحيا منه من الناس
جامع الترمذي
2769
احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك إن استطعت أن لا يراها أحد فافعل الرجل يكون خاليا قال فالله أحق أن يستحيا منه
سنن أبي داود
4017
احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك إذا كان القوم بعضهم في بعض قال إن استطعت أن لا يرينها أحد فلا يرينها إذا كان أحدنا خاليا قال الله أحق أن يستحيا منه من الناس
سنن ابن ماجه
1920
احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك إن كان القوم بعضهم في بعض قال فإن استطعت أن لا تريها أحدا فلا ترينها إن كان أحدنا خاليا قال فالله أحق أن يستحيا منه من الناس
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4017 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4017
فوائد ومسائل:
تنہائی میں بھی بلاوجہ ننگا ہو بیٹھنا جائز نہیں اور تعجب ہے کہ ہمارے ہاں کے جاہل اور بدعتی ومشرک لوگ ننگ دھڑنگ بے دین اور بے شعور لوگوں کو ولی اللہ سمجھتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4017]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري Q278
جس نے تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کیا اور جس نے کپڑا باندھ کر غسل کیا اور کپڑا باندھ کر غسل کرنا افضل ہے
«. . . وَقَالَ بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ " . . . .»
. . . ‏‏‏‏ اور بہز بن حکیم نے اپنے والد سے، انہوں نے بہز کے دادا (معاویہ بن حیدہ) سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ، وَمَنْ تَسَتَّرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ:: Q278]
تشریح:
اس کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ اصحاب سنن نے روایت کیا ہے۔ پوری حدیث یوں ہے کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم کن شرمگاہوں پر تصرف کریں اور کن سے بچیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف تمہاری بیوی اور لونڈی تمہارے لیے حلال ہے۔ میں نے کہا: حضور جب ہم میں سے کوئی اکیلا ہو تو ننگا غسل کر سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔

ابن ابی لیلیٰ نے اکیلے بھی ننگا نہانا ناجائز کہا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا رد کیا اور بتلایا کہ یہ جائز ہے مگر ستر ڈھانپ کر نہانا افضل ہے۔ حدیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت ایوب علیہ السلام کا نہانا مذکور ہے۔ اس سے ترجمہ باب ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 278]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1920
جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1920]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیوی اور لونڈی کے سوا ہر کسی سے شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا مطلب ناجائز تعلقات اور بدکاری سے اجتناب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے:
﴿وَلَا تَقْرَ‌بُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (بنی اسرائیل: 32)
زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اعضائے مستورہ پر کسی کی نظر نہ پڑنے دی۔

(2)
عام طور پر مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے اس معاملہ ميں احتیاط کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔
یہ غلط رویہ ہے۔
بغیر کسی مجبوری کے مرد دوسرے مرد کے اور عورت دوسری عورت کے اعضائے مستورہ کو نہیں دیکھ سکتے۔

(3)
اس حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ خاوند بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مستورہ دیکھ لیں تو گناہ نہیں۔
آئندہ روایتوں میں اس کی ممانعت مذکور ہے لیکن وہ دونوں روایتیں ضعیف ہیں۔

(4)
تنہائی میں بھی بلا ضرورت بالکل ننگا ہونے سے اجتناب کرنا چاہیے اگرچہ غسل وغیرہ کے وقت تمام کپڑے اتارنا جائز ہے۔ (صحیح البخاري، الغسل، باب من اغتسل عریانا وحدہ فی خلوۃ، ومن تستر فالتستر أفضل، حدیث: 278)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1920]