Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب : تزويج العبد بغير إذن سيده
باب: غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَهُوَ زَانٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، تو وہ زانی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8508، ومصباح الزجاجة: 694) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں مندل ضعیف راوی ہے، سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مندل: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة
👤←👥مندل بن علي العنزي، أبو عبد الله
Newمندل بن علي العنزي ← ابن جريج المكي
متروك الحديث
👤←👥مالك بن إسماعيل النهدي، أبو غسان
Newمالك بن إسماعيل النهدي ← مندل بن علي العنزي
ثقة متقن صحيح الكتاب
👤←👥صالح بن يحيى القطان
Newصالح بن يحيى القطان ← مالك بن إسماعيل النهدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← صالح بن يحيى القطان
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2079
إذا نكح العبد بغير إذن مولاه فنكاحه باطل
سنن ابن ماجه
1960
أيما عبد تزوج بغير إذن مواليه فهو زان
سنن ابن ماجه
1959
إذا تزوج العبد بغير إذن سيده كان عاهرا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1960 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1960
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے إرواء الغلیل میں اس مسئلہ کی بابت حضرت جابر سے مرفوعاً روایت بیان کی ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے اور اس کے شواہد کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(إرواء الغلیل: 6؍351، 353، رقم: 1933)
بنا بریں جس طرح عورت کے لیے والد یا سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شرعاً منع ہے اسی طرح غلام کے لیے بھی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا درست نہیں۔
اس میں یہ حکمت ہے کہ نکاح کے بعد اسے اپنے بیوی بچوں کی طرف توجہ دینی پڑے گی جس سے آقا کی خدمت میں فرق آئے گا، اس لیے اگر آقا احسان کرتے ہوئے اپنے حقوق میں کچھ کمی کرنے پر آمادہ ہو تو غلام کو چاہیے کہ نکاح کر لے، ورنہ صبر کے۔
اور آقا کو چاہیے کہ غلام کو اجازت دے دے تاکہ غلام اپنی عصمت و عفت کو محفوظ رکھ سکے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1960]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2079
غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور موقوف ہے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2079]
فوائد ومسائل:
پہلی روایت صحیح ہے جس سے مسئلے کا اثبات واضح ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2079]