یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب : القسمة بين النساء
باب: عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1971
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَيَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر کرتے، اور باری میں انصاف کرتے، پھر فرماتے تھے: ”اے اللہ! یہ میرا کام ہے جس کا میں مالک ہوں، لہٰذا تو مجھے اس معاملہ (محبت کے معاملہ) میں ملامت نہ کر جس کا تو مالک ہے، اور میں مالک نہیں ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1971]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں باری مقرر کر لیتے تھے، اور (اس معاملے میں) انصاف سے کام لیتے تھے، پھر فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» ”اے اللہ! جو کچھ میرے بس میں ہے اس میں، میں یہ کام کرتا ہوں۔ میرا اس معاملے میں مؤاخذہ نہ فرمانا جو تیرے بس میں ہے، میرے بس میں نہیں“، یعنی دلی محبت۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 39 (2134)، سنن الترمذی/النکاح 41 (1140)، سنن النسائی/عشرة النکاح 2 (3395)، (تحفة الأشراف: 16290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/144)، سنن الدارمی/النکاح 25 (2253) (ضعیف)» (لیکن رسول اکرم ﷺ کا بیویوں کے درمیان ایام کی تقسیم ثابت ہے، تراجع الألبانی: رقم: 346)
وضاحت: ۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق مرد کا اختیار جہاں تک ہے، وہاں تک بیویوں کے درمیان عدل کرے، ہر ایک عورت کے پاس باری باری رہنا یہ اختیاری معاملہ ہے جو ہو سکتا ہے، لیکن دل کی محبت اور جماع کی خواہش یہ اختیاری نہیں ہے، کسی عورت سے رغبت ہوتی ہے، کسی سے نہیں ہوتی، تو اس میں برابری کرنا یہ مرد سے نہیں ہو سکتا، بس اللہ تعالی اس کو معاف کر دے گا، الروضہ الندیہ میں ہے کہ عورت کو اختیار ہے کہ اپنی باری کسی دوسری عورت کو ہبہ کر دے جیسے اس کا ذکر آگے آتا ہے، یا اپنی باری شوہر کو معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الطرف الأول منه حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3395
| اللهم هذا فعلي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك |
جامع الترمذي |
1140
| اللهم هذه قسمتي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك |
سنن أبي داود |
2134
| اللهم هذا قسمي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك |
سنن ابن ماجه |
1971
| اللهم هذا فعلي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك |
بلوغ المرام |
905
| اللهم هذا قسمي فيما أملك ، فلا تلمني فيما تملك ، ولا أملك |
Sunan Ibn Majah Hadith 1971 in Urdu
عبد الله بن يزيد البصري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق