علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب : الرجل يشك في ولده
باب: آدمی کا اپنے لڑکے میں شک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2003
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَر ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ عَلَى فِرَاشِي غُلَامًا أَسْوَدَ، وَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لَمْ يَكُنْ فِينَا أَسْوَدُ قَطُّ، قَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا"، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا أَسْوَدُ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فِيهَا أَوْرَقُ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ"، قَالَ:" عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ"، قَالَ:" فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدوی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا لڑکا جنا ہے، اور ہم ایک ایسے گھرانے کے ہیں جس میں کبھی کوئی کالا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں“؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کے رنگ کیا ہیں“؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں کوئی سیاہ بھی ہے“؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا ہے“؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رنگ کہاں سے آیا“؟ اس نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر شاید تمہارے اس بچے کا بھی یہی حال ہو کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2003]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خانہ بدوش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری عورت کے ہاں، میرے نکاح میں رہتے ہوئے، سیاہ فام لڑکا پیدا ہوا ہے اور ہمارے خاندان میں کبھی کوئی سیاہ فام نہیں تھا۔ (ہمارے ننھیال و ددھیال سب سفید فام ہیں۔)“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”وہ کس رنگ کے ہیں؟“ کہا: ”سرخ ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی سیاہ بھی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی نہیں۔“ فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”وہ کیسے ہو گیا؟“ اس نے کہا: ”شاید کسی (دادا پردادا یا نانا وغیرہ) کا خون غالب آیا ہے؟“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7643، ومصباح الزجاجة: 117) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2003
| هل لك من إبل قال نعم قال فما ألوانها قال حمر قال هل فيها أسود قال لا قال فيها أورق قال نعم قال فأنى كان ذلك قال عسى أن يكون نزعه عرق قال فلعل ابنك هذا نزعه عرق |
Sunan Ibn Majah Hadith 2003 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي